سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 67 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 67

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 35 دیانت اور امانت کے معیاروں کو اونچا کرنے کی ضرورت ہے پس یہ باتیں جماعت کے ہر فرد کے دل میں راسخ ہونی چاہئیں اور یہ مربیان اور اہل علم کا کام ہے کہ اسے ہر ایک کے دل میں پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ پس اس ذمہ داری کو سمجھیں، اس بات کے پیچھے پڑ جائیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی برکات اور آپ کے فیوض لوگوں پر ظاہر کرنے ہیں۔ خدا تعالیٰ کے زندہ نشانات کا بار بار تذکرہ کرنا ہے، لوگوں کو یہ بتانا ہے کہ خدا تعالیٰ کے قرب کے حصول کے ذرائع کیا ہیں؟ اور خلیفہ وقت کی ہر صورت میں اطاعت اور نظام کی فرمانبرداری کی ایک اہمیت ہے اور ہر ایک پر یہ اہمیت واضح ہونی چاہیے۔ ۔۔۔ پس جب یہ ہو گا تو دلوں کے وساوس بھی دور ہوں گے۔ اور اس طریق سے وساوس دور کرنے والوں کی تعداد، یا جن کے دلوں کے وساوس دور ہو جائیں، اُن کی تعداد اتنی زیادہ ہو جائے گی کہ ہر فتنہ اپنی موت آپ مر جائے گا۔ جماعت میں ہر لحاظ سے عملی اصلاح کا ہر پہلو نظر آ رہا ہو گا اور یہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کا بڑا مقصد ہے۔۔۔ پس ہمیں اپنے اعمال اچھے کرنے کی ضرورت ہے، ہمیں اپنے دیانت اور امانت کے معیاروں کو اونچا کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنی آمد کے حلال ذرائع اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ نہیں کہ چند پیسوں کے لئے کونسل کو دھو کہ دے کر اپنی سچائی کے معیار کو داؤ پر لگا دیں اور benefit حاصل کر لیں یا روپے حاصل کرنے کے لئے جھوٹے مقدمے کر دیں۔ ہمیں اپنے کام جو بھی ہمارے سپر د کئے جائیں، پوری تندہی اور محنت اور پوری خوش اسلوبی اور پوری دیانتداری سے کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر یہ ہو گا تو دین کے ساتھ دنیا کے میدان بھی ہم پر کھل جائیں گے۔ انشاء اللہ ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ غیروں پر عمومی طور پر جماعت کا اچھا اثر ہے لیکن اگر ہم بعض معمولی دنیاوی فائدوں کے لئے اپنی دیانت اور امانت کے معیاروں کو ضائع کرنے والے بنیں تو ہر ایک شخص جو یہ حرکت کرتا ہے ، جماعت کو بد نام کرنے والا بھی بنے گا۔“ (خطبہ جمعہ فرمودہ 31 جنوری 2014ء بحوالہ الفضل انٹر نیشنل مورخہ 21 فروری 2014ء صفحہ 5-8)