سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 66
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 34 کہتے ہیں کہ خلیفہ وقت نے یہ غلط کام کیا اور یہ یہ غلط کام کیا اور یہ غلط فیصلہ کیا یا فلاں فیصلے کو اس طرح ہونا چاہیے تھا۔ بعض قضا کے فیصلوں پر اعتراض ہوتے رہتے ہیں۔ یا فلاں شخص کو فلاں کام پر کیوں لگایا گیا؟ اس کی جگہ تو فلاں شخص ہونا چاہیے تھا۔ خلیفہ وقت کی فلاں فلاں کے بارے میں تو بڑی معلومات ہیں، علم ہے ، اور فلاں شخص کے بارے میں اُس نے باوجود علم ہونے کے آنکھیں بند کی ہوئی ہیں۔ اس قسم کی باتیں کرنے والے چند ایک ہی ہوتے ہیں لیکن ماحول کو خراب کرتے ہیں۔ اگر مربیان اور ہر سطح کے عہدیداران ، پہلے بھی میں کہہ چکا ہوں، ہر تنظیم کے اور جماعتی عہدیداران اپنی اس ذمہ داری کو بھی سمجھیں تو بعض دلوں میں جو شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں، کبھی پیدا نہ ہوں۔ خاص طور پر مربیان کا یہ کام ہے کہ انہیں سمجھائیں اور بتائیں کہ تمام برکتیں نظام میں ہیں۔ اللہ تعالیٰ تو جب کسی قوم پر لعنت ڈالنا چاہتا ہے تو نظام کو اُٹھا لیتا ہے۔ پس جب یہ باتیں ہر ایک کے علم میں آجائیں گی تو بعض لوگ جن کو ٹھو کر لگتی ہے وہ ٹھو کر کھانے سے بچ جائیں گے۔ ایسا طبقہ چاہے وہ چند ایک ہی ہوں، ہمیشہ رہتا ہے جو اپنے آپ کو عقل گل سمجھتا ہے اور ادھر اُدھر بیٹھ کر باتیں کرتا رہتا ہے کہ خلیفہ خدا تو نہیں ہوتا، وہ بھی غلطی کر سکتا ہے، جیسا کہ عام آدمی غلطی کر سکتا ہے، ٹھیک ہے۔ لیکن حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے اس کا بڑا اچھا جواب دیا ہے۔ اور یہ جواب جو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے دیا، ہر وقت اور ہر دور کے لئے ہے۔ اگر خلافت برحق ہے، اگر خلافت پر ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ انعام دیا گیا ہے تو آپ کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ خلفاء جن امور کا فیصلہ کیا کرتے ہیں ہم ان امور کو دنیا میں قائم کر کے رہتے ہیں۔ وہ فرماتا ہے وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ (النور : 56) یعنی وہ دین اور وہ اصول جو خلفاء دنیا میں قائم کرنا چاہتے ہیں ، ہم اپنی ذات ہی کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ ہم اُسے دنیا میں قائم کر کے رہیں گے۔ (ماخوذ از خطبات محمود جلد 17 صفحہ 458 خطبہ جمعہ فرمودہ 10 جولائی )1936ء