سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 65
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 33 نئے احمدی ہو رہے ہیں، افریقہ میں سے بھی اور زیادہ تر عربوں میں سے بھی، وہ اپنے واقعات لکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب پڑھ کر اُن میں تبدیلیاں ہوئیں، اُن کے ایمان میں اضافہ ہوا۔ بیشک کتب پڑھ کر اُن کی اعتقادی غلط فہمیاں بھی دور ہوئیں اور اعتقادی لحاظ سے اُن کے علم میں اضافہ ہو کر اُن کو ایمان کی نئی راہیں نظر آئیں۔ لیکن ایمان کی مضبوطی اُن میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نشانات کو دیکھنے، آپ کی وحی کی حقیقت کو سمجھنے اور آپ کے تعلق باللہ سے پیدا ہوئی اور پھر اللہ تعالیٰ نے بھی انہیں بعض نشانات دکھا کر اپنے قرب کا نظارہ دکھا دیا۔ حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ : ” عجیب بات ہے کہ ہمارے علماء حضرت عیسیٰ کو مارنے کی کوشش کرتے ہیں مگر ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کو زندہ کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔ وہ روح پیدا نہیں کرتے جس سے اللہ تعالیٰ کا فہم اور ادراک پیدا ہو۔ ہماری اصل کوشش خدا تعالیٰ کو زندہ کرنے کی اور اُس سے زیادہ تعلق پیدا کرنے کی ہونی چاہیے۔ اگر خدا سے ہمارا زندہ تعلق ہے تو چاہے عیسیٰ کو زندہ سمجھنے والے جتنا بھی شور مچاتے رہیں ، ہمارے ایمانوں میں کبھی بگاڑ پیدا نہیں ہو گا کیونکہ خدا ہر قدم پر ہمیں سنبھالنے والا ہو گا (ماخوذ از خطبات محمود جلد 17 صفحہ 456 خطبہ جمعہ فرمودہ 10 جولائی 1936ء) خلافت کا صحیح فہم و ادراک پیدا کر نامر بیان اور عہدیداران کا کام ہے اپنے آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے جوڑ کر پھر خلافت سے کامل اطاعت کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ یہی چیز ہے جو جماعت میں مضبوطی اور روحانیت میں ترقی کا باعث بنے گی۔ خلافت کی پہچان اور اُس کا صحیح علم اور ادراک اس طرح جماعت میں پیدا ہو جانا چاہیے کہ خلیفہ وقت کے ہر فیصلے کو بخوشی قبول کرنے والے ہوں اور کسی قسم کی روک دل میں پیدا نہ ہو، کسی بات کو سن کر انقباض نہ ہو۔ خلافت کا صحیح فہم و ادراک پیدا کرنا بھی مربیان کے کاموں میں سے اہم کام ہے اور پھر عہدیداران کا کام ہے کہ وہ بھی اس طرف توجہ دیں۔ بعض ایسی مثالیں بھی سامنے آجاتی ہیں کہ