سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 64
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 32 اصلاح عمل کے لئے ایک انسان میں ہونا ضروری ہے۔ ایسے لوگوں کے دلوں میں اگر قوتِ ایمانیہ بھر دی جائے تو ان کے اعمال درست ہو جاتے ہیں۔ اور ایک طبقہ ایسا ہوتا ہے جو عدم علم کی وجہ سے گناہوں کا شکار ہوتا ہے۔ اس کے لئے صحیح علم کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور ایک طبقہ جو نیک اعمال بجالانے کے لئے دوسروں کا محتاج ہوتا۔ تا ہے۔ یہ تین قسم کے لوگ ہیں۔ اور اس کی احتیاج جو ہے وہ دو طرح سے پوری کی جاتی ہے۔ یا اُس کی بیرونی مدد دو طرح سے ہو گی۔ ایک تو نگرانی کر کے ، جس کی میں نے ابھی تفصیل بیان کی ہے کہ نگرانی کی جائے تو بدیاں چھوٹ جاتی ہیں اور نیکیوں کی طرف توجہ پیدا ہو جاتی ہے لیکن وہ طبقہ جو بالکل ہی گرا ہوا ہو، جو نگرانی سے بھی باز آنے والا نہ ہو ، اُسے جب تک سزا نہ دی جائے اُس کی اصلاح نہیں ہو سکتی۔ پس ان چاروں ذرائع کو جماعت کی اصلاح کے لئے بھی اختیار کرنا ضروری ہے۔ اور ہر ایک کی بیماری کا علاج اُس کی بیماری کی نوعیت کے لحاظ سے کرنا ضروری ہے۔ یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ جس زمانے میں مذہب کے پاس نہ حکومت ہو، نہ تلوار اُس زمانے میں یہ چاروں علاج ضروری ہوتے ہیں۔ خدا ہر قدم پر ہمیں سنبھالنے والا ہو گا پس جیسا کہ گزشتہ خطبہ میں ذکر ہو چکا ہے کہ پہلے علاج کے طور پر تربیت کر کے ایمان میں مضبوطی پیدا کرنا ضروری ہے۔ اور اس کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نشانات ، آپ کی وحی ، آپ کے تعلق باللہ اور آپ کے ذریعہ سے آپ کے ماننے والوں میں روحانی انقلاب کا ذکر کیا جائے۔ اُنہیں بتایا جائے کہ اللہ تعالیٰ کے قرب کے کیا فوائد ہیں۔ جیسا کہ میں نے گزشتہ خطبہ میں بھی کہا تھا کہ اس دور میں جب شیطان بھر پور حملے کر رہا ہے تو ان باتوں کے بارے میں بتانے کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ یہ ذکر متواتر اور بار بار ہونا چاہیے۔ یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی محبت انسان کو کس طرح حاصل ہو سکتی ہے اور اُس کا پیار جب کسی انسان کے شامل حال ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اُس سے کس طرح امتیازی سلوک کرتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں اس بارے میں کس طرح بتایا ہے۔ مختلف قوموں سے جو