سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 63 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 63

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 31 پھانسی بھی دی جاتی ہے تو یہ جبر اس لئے ہے کہ قاتل نے ایک جان لی اور قاتلوں کو اگر کھلی چھٹی مل جائے تو پھر معاشرے کا امن برباد ہو جائے اور کئی اور قاتل پیدا ہو جائیں۔ پس قتل کی سزا قتل دینے سے کئی ایسے لوگوں کی اصلاح ہو جاتی ہے یا وہ اس کام سے رُک جاتے ہیں جو قتل کا رجحان رکھتے ہیں، جو زیادہ جو شیلے ہوتے ہیں۔ بہر حال یہ جبر اصلاح کا ایک پہلو ہے جو دنیا میں بھی رائج ہے۔ دنیا دار کے جبر سے یا دنیاوی سزاؤں کے جبر سے ایمان کا کوئی تعلق نہیں ہے لیکن ایک دین کی طرف منسوب ہونے والے پر جب جبر کیا جاتا ہے اور دینی نظام کے تحت اُس کو سزادی جاتی ہے یا کسی بھی قسم کی سزا یا جرمانہ ہو، کوئی اور سزا ہو یا بعض پابندیاں عائد کر دی جاتی ہیں۔ جماعت میں بعض دفعہ بعض چندے لینے پر پابندیاں عائد کر دی جاتی ہیں تو بے شک جبراً ان کاموں سے روکا جا رہا ہوتا ہے لیکن ساتھ ہی جب وہ باتیں یا اعمال جو صالح اعمال ہیں ، اُن کی طرف توجہ دلائی جارہی ہو اور کوئی شخص اس لئے کر رہا ہو کہ سزا سے بچ جاؤں یا خلیفہ وقت کی ناراضگی سے بچ جاؤں یا اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے بچ جاؤں تو آہستہ آہستہ دل میں ایمان پیدا ہوتا ہے اور پھر یہ بڑھنا شروع ہو جاتا ہے اور ایسے لوگ برائیوں کو چھوڑ کر خوشی سے نیک اعمال بجالانے والے بننا شروع ہو جاتے ہیں۔ اصلاح کے چار ذرائع پس ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ نیک اعمال بجالانے کی عادت ڈالنے کے لئے مختلف ذرائع استعمال کرنے پڑتے ہیں۔ بغیر ان ذرائع کو اختیار کئے اصلاح اعمال میں کامیابی نہیں ہو سکتی۔ پس ان ذرائع کا استعمال انتہائی ضروری ہے۔ یعنی ایمان کا پیدا کرنا، علم صحیح کا پیدا کرنا، ان باتوں کا تو گزشتہ خطبہ میں ذکر ہو گیا تھا۔ اور قوتِ عملی پیدا کرنے کے ضمن میں نگرانی کرنا اور جبر کرنا، جن کا ابھی میں نے ذکر کیا ہے۔ یہ چار چیزیں ہیں جن کے بغیر اصلاح مشکل ہے۔ جب ہم گہرائی میں جائزہ لیں تو ہمیں پتا چلتا ہے کہ دنیا میں ایک طبقہ ایسا ہے جو ایمانی قوت اپنے اندر نہیں رکھتا۔ یعنی وہ معیار نہیں رکھتا جو