سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 62 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 62

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 30 ہے۔ اور جب اسلام اسلام کی یہ تعلیم بھی سامنے ہو کہ ہر نگران نگرانی کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ (صحیح البخارى كتاب الجمعه باب الجمعة فى القرى والمدن حدیث نمبر (893) تو نہ صرف اُن کی اصلاح ہو گی جن کی نگرانی کی جارہی ہے بلکہ نگرانوں کی بھی اصلاح ہو رہی ہو گی۔ بہر حال عملی اصلاح کے لئے نگرانی بھی ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ اصلاح کا ایک پہلو ”جبر “ بھی ہے دوسری بات جو اصلاح کے لئے ضروری ہے جبر ہے۔ یہاں کسی کے دل میں یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ ایک طرف تو ہم کہتے ہیں کہ ”دین کے معاملے میں جبر نہیں ہے“۔ دوسری طرف عملی اصلاح کے لئے جو علاج تجویز کیا جارہا ہے ، وہ جبر ہے۔ پس واضح ہو کہ یہ جبر دین قبول کرنے یا دین چھوڑنے کے معاملے میں نہیں ہے۔ ہر ایک آزاد ہے ، جس دین کو چاہے اختیار کرے اور جس دین کو چاہے چھوڑ دے۔ اسلام تو بڑا واضح طور پر یہ اختیار دیتا ہے۔ یہاں جبر یہ ہے کہ دین کی طرف منسوب ہو کر پھر اُس کے قواعد پر عمل نہ کرنا اور اُسے توڑنا، ایک طرف تو اپنے آپ کو نظام جماعت کا حصہ کہنا اور پھر نظام کے قواعد کو توڑنا۔ یہ بات اگر ہو رہی ہے تو پھر بہر حال سختی ہو گی اور یہاں جبر سے یہی مراد ہے۔ نظام کا حصہ بن کر رہنا ہے تو پھر تعلیم پر بھی عمل کرنا ہو گا۔ ورنہ سزا مل سکتی ہے، جرمانہ بھی ہو سکتا ہے ، بعض قسم کی پابندیاں بھی عائد ہو سکتی ہیں۔ اور ان سب باتوں کا مقصد اصلاح کرنا ہے تا کہ قوتِ عملی کی کمزوری کو دور کیا جا سکے۔ جاسکے۔ جماعت میں بھی جب نظام جماعت سزا دیتا ہے تو اصل مقصد اصلاح ہوتا ہے۔ کسی کی سبکی یا کسی کو بلا وجہ تکلیف میں ڈالنا نہیں ہوتا۔ یہ جبر حکومتی قوانین میں بھی لاگو ہے۔ سزائیں بھی ملتی ہیں، جیلوں میں بھی ڈالا جاتا ہے، جرمانے بھی ہوتے ہیں، بعض دفعہ مارا بھی جاتا ہے اور مقصد یہی ہوتا ہے کہ معاشرے میں امن رہے اور جو دوسرے کو نقصان پہنچانے والے ہیں وہ نقصان پہنچانے کا کام نہ کر سکیں بلکہ بعض دفعہ تو اپنے آپ کو نقصان پہنچانے والے کام پر بھی سزا مل جاتی ہے۔ لیکن اس سزا کے دوران اصلاح کرنے کے مختلف ذرائع استعمال کئے جاتے ہیں۔ اگر کسی کو