سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 61 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 61

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 29 پہلے خطبات میں ذکر ہو چکا ہے، بیرونی علاج یا مدد کی ضرورت ہے۔ یا کہہ سکتے ہیں کہ دوسرے کے سہارے کی ضرورت ہے۔ اور عملی اصلاح کے لئے یہ سہارا دو قسم کا ہوتا ہے یا دو قسم کے سہاروں، ایک نگرانی کی اور دوسرا جبر کی ضرورت ہے۔ نگرانی یہ ہے کہ مستقل نظر میں رکھا جائے، زیر نگرانی رکھا جائے کہ کہیں کوئی بد عمل نہ کرلے۔ اس قسم کی نگرانی دنیاوی معاملات میں بھی ہوتی ہے۔ گھروں میں ماں باپ بچوں کی نگرانی کرتے ہیں۔ سکولوں میں استاد علاوہ پڑھانے کے نگرانی کا کردار ادا کر رہے ہوتے ہیں۔ بعض دفعہ حکومت کے کارندے نگرانی کر رہے ہوتے ہیں اور یہ بتا دیتے ہیں کہ ہم نگرانی کریں گے۔ سڑکوں پر ٹریفک کے لئے مستقل کیمرے لگائے ہوتے ہیں اور بورڈ لگے ہوتے ہیں کہ کیمرہ لگا ہوا ہے۔ یہ نگرانی کا ایک عمل ہے۔ جو بچے ماں باپ کی زیادتیوں کا نشانہ بنتے ہیں اُن کے والدین کو warning دی جاتی ہے کہ ہم نگرانی کریں گے۔ اگر بچوں کو زیادہ تنگ کیا گیا تو پھر بچوں کی بہبود کا جو ادارہ ہے وہ کہتا ہے کہ ہم بچے لے جائیں گے۔ ان ترقی یافتہ ممالک میں تو یہ بہت عام ہے۔ بلکہ میرے خیال میں تو بچوں کے معاملے میں ناجائز حد تک یہ نگرانی ہوتی ہے۔ اور ماں باپ بچوں سے ڈر کر یا اس ادارے سے ڈر کر جائز روک ٹوک بھی بچوں پر نہیں کرتے اور نتیجہ بسا اوقات بچے بھی بگڑ جاتے ہیں۔ دنیا کے معاملات میں تو یہ نگرانی بعض دفعہ نقصان کا باعث بھی بن رہی ہوتی ہے۔ پھر خاوند بیوی کے تعلقات میں خرابی کی وجہ سے بھی اُن کی نگرانی ہوتی ہے۔ پھر ملزمان کی نگرانی ہوتی ہے۔ بہر حال اس ساری نگرانی کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اُس کو اُن کاموں سے روکا جائے جن کی وجہ سے فساد پیدا ہو سکتا ہے یا اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اصلاح ہو۔ بہر حال نگرانی ہر معاشرے کے قانون میں اصلاح کا ایک ذریعہ ہے اور عملی اصلاح کرنے کے لئے دین بھی اس کی طرف ہمیں توجہ دلاتا ہے۔ اور بہت سے غلط کاموں سے انسان اس وجہ سے بیچ رہا ہوتا ہے کہ معاشرہ اس کی نگرانی کر رہا ہے۔ ماں باپ اپنے دائرے میں نگرانی کر رہے ہوتے ہیں۔ مربیان کا اپنے دائرے میں یہ نگرانی کرنا کام ہے۔ اور باقی نظام کو بھی اپنے اپنے دائرے میں نگر ان بننا ضروری