سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 60
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 28 اپنا نمونہ قائم کرنے کی بہت ضرورت ہے گزشتہ خطبہ میں اصلاح اعمال یا تربیت کے حوالے سے مربیان، اس میں تمام واقفین زندگی شامل ہیں، امراء اور عہدیداران کی ذمہ داریوں کی بات ہو رہی تھی کہ کس طرح انہیں اپنا کردار عملی اصلاح کی روک کے اسباب پر قابو پانے کے لئے ادا کرنا چاہیے اور اس کے لئے کن چیزوں کی ضرورت ہے جن کو مربیان اور عہدیداران کو اپنے اوپر لاگو کر کے پھر جماعت کو بتانے اور دکھانے کی ضرورت ہے۔ یہاں یہ بھی واضح کر دوں کہ وہ علماء اور واعظین جو حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانے میں تھے اُن میں صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام شامل تھے اور صحابہ سے تربیت پانے والے بھی شامل تھے، اُن کا تعلق باللہ اور ایمان اور یقین کا معیار بھی یقیناً بہت اعلیٰ تھا۔ اُن کی کمی ان باتوں میں نہیں تھی۔ کمی اس بات کی تھی جس کی طرف حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے توجہ دلائی کہ ترجیحات کو بدلنے کی ضرورت ہے یا اعتقادی مسائل پر جس طرح زور دیا جا رہا ہے اسی طرح عملی اصلاح کی اہمیت پر بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نشانات اور اپنے ذاتی تعلق باللہ اور اطاعت خلافت اور احترام نظام کے حوالے سے بھی افرادِ جماعت کی تربیت کی ضرورت ہے۔ لیکن آجکل ہمیں نظر آتا ہے کہ ہمارا ان باتوں میں وہ معیار نہیں ہے۔ اس لئے جب میں کہتا ہوں کہ مربیان اور عہدیداران اپنے اوپر لاگو کر کے پھر افراد جماعت کو بتائیں تو اس کی خاص اہمیت ہے۔ یعنی اپنے پر لاگو کرنے کے لفظ پر غور کرنے اور عمل کرنے اور اپنا نمونہ قائم کرنے کی بہت ضرورت ہے تبھی اصلاحی باتوں کا اثر بھی حقیقی رنگ میں ہو گا۔ عملی اصلاح کے لئے نگرانی کی ضرورت گزشتہ خطبہ میں قوتِ ارادی کے پیدا کرنے اور علمی کمزوری دُور کرنے کا ذکر ہو گیا تھا لیکن تیسری بات اس ضمن میں بیان نہیں ہوئی تھی۔ یعنی عملی کمزوری کو دور کرنے کا طریق یا عملی قوت کو کس طرح بڑھایا جا سکتا ہے۔ اس بارے میں آج کچھ کہوں گا۔ اس کے لئے جیسا کہ