سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 59
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 27 ہے۔ اس زمانے میں جبکہ علم کے نام پر سکولوں میں مختلف برائیوں کو بھی بچوں کو بتایا جاتا ہے، ہمارے نظام کو بہت بڑھ کر بچوں اور نوجوانوں کو حقیقت سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ماں باپ کو اپنی حالتوں کی طرف نظر کرتے ہوئے اُس علم کے نقصانات سے اپنے آپ کو آگاہ کرنے کی ضرورت ہے جو بچوں کو علم کی آگاہی کے نام پر بچپن میں سکول میں دیا جاتا ہے۔ ماں باپ کو بھی پتا ہونا چاہیے تاکہ اپنے آپ کو بھی بچائیں اور اپنے بچوں کو بھی بچائیں۔ یہاں بہت چھوٹی عمر میں بعض غیر ضروری باتیں بچوں کو سکھا دی جاتی ہیں اور دلیل یہ دی جاتی ہے کہ اچھے برے کی تمیز ہو جائے۔ جبکہ حقیقت میں اچھے برے کی تمیز نہیں ہوتی بلکہ بچوں کی اکثریت کے ذہن بچپن سے ہی غلط سوچ رکھنے والے بن جاتے ہیں۔ کیونکہ اُن کے سامنے اُن کے ماں باپ کے نمونے یا اُس کے ماحول کے نمونے برائی والے زیادہ ہوتے ہیں، اچھائی والے کم ہوتے ہیں۔ پس مربیان، عہدیداران، ذیلی تنظیموں کے عہدیداران، والدین، ان سب کو مل کر مشترکہ کوشش کرنی پڑے گی کہ غلط علم کی جگہ صحیح علم سے آگاہی کا انتظام کریں۔ سکولوں کے طریق کو ہم روک نہیں سکتے۔ وہاں تو ہم کچھ دخل اندازی نہیں کر سکتے۔ لیکن گندگی اور بے حیائی کا فرق بتا کر، بچوں کو اعتماد میں لے کر اپنے عملی نمونے دکھا کر ماحول کے اثر سے بچا سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو احسن رنگ میں اپنے فرائض ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔“ (خطبہ جمعہ فرمودہ 24 جنوری 2014ء بحوالہ الفضل انٹر نیشنل مورخہ 14 فروری 2014ء صفحہ 5-9)