سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 56 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 56

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 24 عہدیداران کو اپنے اپنے دائرے میں اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے پس اس کے لئے ہمارے مربیان اور امراء اور عہدیداران کو اپنے اپنے دائرے میں اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے اور یہ بتا کر اصلاح کرنی چاہیے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ آپ کی کامل پیروی کرنے والے خدا تعالیٰ کا قرب پانے والے ہوں گے اور ایسے لوگوں کی اکثر دعاؤں کو خدا تعالی سنتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ جماعت میں ایسے لوگ ہیں اور مجھے لکھتے بھی رہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے بعض واقعات کا مختلف وقتوں میں ذکر بھی ہوتا رہتا ہے اور میں بھی بیان کرتا رہتا ہوں۔ پس ایسے واقعات ہیں جو نقل کی تحریک پیدا کرنے والے ہونے چاہئیں۔ نقل اگر کرنی ہے تو ایسے واقعات کو سن کر اپنے اوپر بھی یہ حالت طاری کرنے کے لئے نقل کرنی چاہیے تاکہ خدا تعالیٰ سے قرب کارشتہ قائم ہو۔ بولنے والا خدا صرف ایک ہی ہے جو اسلام کا خدا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک موقع پر فرماتے ہیں کہ : دو دنیا میں جس قدر قومیں ہیں کسی قوم نے ایسا خدا نہیں مانا جو جواب دیتا ہو اور دعاؤں کو سنتا ہو۔۔۔ کیا ایک عیسائی کہہ سکتا ہے کہ میں نے یسوع کو خدا مانا ہے۔ وہ میری دعا کو سنتا اور اس کا جواب دیتا ہے ؟ ہر گز نہیں۔ بولنے والا خدا صرف ایک ہی ہے جو اسلام کا خدا ہے جو قرآن نے پیش کیا ہے۔ جس نے کہا ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ (المومن: 61) تم مجھے پکارو میں تم کو جواب دوں گا اور یہ بالکل سچی بات ہے۔ کوئی ہو- کوئی ہو جو ایک عرصہ تک سچی نیت اور صفائی قلب کے ساتھ ( یہ چیز اہم ہے جو فرمایا ایک عرصہ تک سچی نیت اور صفائی قلب کے ساتھ اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتا ہو۔ وہ مجاہدہ کرے اور دعاؤں میں لگا رہے۔ آخر اس کی دعاؤں کا جواب اُسے ضرور دیا جاوے گا۔ “ ( ملفوظات جلد 3 صفحہ (201) پس یہ باتیں بار بار جماعت کے سامنے بیان کی جائیں تو یقیناً اس میں طاقت پیدا ہو سکتی ہے۔ یا جماعت کے ایک بھاری حصے میں یہ طاقت پیدا ہو سکتی ہے اور اُس کی قوتِ ارادی ایسی