سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 57
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 25 مضبوط ہو سکتی ہے کہ وہ ہزاروں گناہوں پر غالب آ جائے اور اُن سے ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو جائے اور اللہ تعالیٰ سے ایک ایسا تعلق پیدا ہو جائے جو کبھی ڈانواڈول ہونے والا نہ ہو۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کا یہی مقصد تھا کہ انسانیت کو گناہوں سے بچایا جائے اور اللہ تعالیٰ سے ایک ایسا تعلق پیدا ہو جائے کہ خدا تعالیٰ کی رضا ہر چیز پر مقدم ہو جائے۔ عبادت سے بچنے کے بہانے تلاش کرنے کی بجائے یا فرض سمجھ کر جلدی جلدی ادا کرنے کی بجائے، جس طرح کہ سر سے، گلے سے ایک بوجھ ہے جو اتارنا ہوتا ہے ، اُس طرح اتارنے کی بجائے ایک شوق پیدا ہو۔ ۔۔۔ پس اگر ایمان مضبوط ہو تو اللہ تعالیٰ کی قدرت پر یقین ہوتا ہے۔ اور انسان صرف اور صرف خدا تعالیٰ کی طرف دیکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ پھر نشان دکھاتا ہے۔ یہی باتیں ہیں، یہ جہاں اپنا ایمان مضبوط کرتی ہیں، اپنی عملی حالت کو درست رکھتی ہیں وہاں دوسروں کے لئے بھی مضبوطی ایمان کا باعث بنتی ہیں۔ پس یہ چیز ہے جو ہمیں حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ عملی اصلاح کے لئے دوسری چیز علمی قوت ہے عملی اصلاح کے لئے دوسری چیز جس کا پہلے ذکر ہو چکا ہے وہ علمی قوت ہے یا علم کا ہونا ہے۔ اس بارے میں پہلے ذکر ہو چکا ہے، دوبارہ بتادوں کہ غلطی سے یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ کچھ گناہ بڑے ہوتے ہیں اور کچھ گناہ چھوٹے ہوتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جن گناہوں کو انسان چھوٹا سمجھ رہا ہوتا ہے وہ گناہ اُس کے دل و دماغ میں بیٹھ جاتا ہے۔ اگر زیادہ ہیں تو جو زیادہ گناہ ہیں وہ دل و دماغ میں بیٹھ جاتے ہیں کہ یہ تو کوئی گناہ ہے ہی نہیں۔ چھوٹی سی بات ہے یا ایسا معمولی گناہ ہے جس کے بارے میں کوئی زیادہ باز پرس نہیں ہو گی۔ خود ہی انسان تصور پیدا کر لیتا ہے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 17 صفحه 453 خطبه جمعه بیان فرمودہ 10 جولائی 1936ء مطبوعہ فضل عمر فاؤنڈیشن ربوہ ) کوئی گناہ بڑا اور چھوٹا نہیں ہے۔ گناہ گناہ ہے اس سے ہم نے بچنا ہے ابھی گزشتہ خطبوں میں شاید دو ہفتے پہلے ہی میں نے توجہ دلائی تھی کہ اسائلم سیکر ز جو