سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 55
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 23 نوازے۔ اس سوچ کے نہ ہونے کی بڑی وجہ یہی ہے کہ ہمارے علماء، ہمارے مربیان، ہمارے عہدیداران اپنے اپنے دائرے میں افرادِ جماعت کے سامنے اللہ تعالیٰ کی محبت کے حصول کی کوشش کے لئے بار بار ذکر نہیں کرتے، یا اُس طرح ذکر نہیں کرتے جس طرح ہونا چاہیے یا ان کے اپنے نمونے ایسے نہیں ہوتے جن کو دیکھ کر اُن کی طرف توجہ پیدا ہو۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کے صحابہ کا بار بار ذکر کر کے اس بارے میں اُن بزرگوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی نصرت اور نشانات کے واقعات بھی شدت سے نہیں دہرائے جاتے اور یہ یقین پیدا نہیں کرواتے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات کو کسی خاص وقت اور اشخاص کے لئے مخصوص نہیں کر دیا بلکہ آج بھی اللہ تعالیٰ اپنی صفات کا اظہار کرتا ہے۔ اگر بار بار ذکر ہو اور یہ تعلق پیدا کرنے کے طریقے بتائے جائیں، اگر اللہ تعالیٰ کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کئے گئے وعدوں کا ذکر کیا جائے تو بچوں، نوجوانوں میں یہ سوال پیدا نہیں ہوتا کہ خدا تعالیٰ نے ہماری دعا کیوں قبول نہیں کی۔ اللہ تعالیٰ سے تعلق کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ پھر دعا کی قبولیت کے فلسفے کی بھی سمجھ آجاتی ہے اور نشانات بھی ظاہر ہوتے ہیں۔ پس یہ بات عام طور پر بتانے کی ضرورت ہے کہ اس زمانے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق سے بجڑ کر اللہ تعالیٰ سے قرب کا تعلق پیدا کیا جا سکتا ہے۔ نشانات صرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ذات یا زمانے تک محدود نہیں تھے یا مخصوص نہیں تھے بلکہ اب بھی خدا تعالیٰ اپنی تمام تر قدرتوں کے ساتھ جلوہ دکھاتا ہے۔ پس نیکیوں کو حاصل کرنے کی تڑپ اللہ تعالیٰ کا قرب پانے کی تڑپ ہماری جماعت میں عام ہو جائے تو ایک بہت بڑا طبقہ ایسا پیدا ہو سکتا ہے جو گناہ کو بہت حد تک مٹا دے گا۔ گناہ کو مکمل طور پر مٹانا تو مشکل کام ہے ، اس کا دعویٰ تو نہیں کیا جا سکتا لیکن بہت حد تک گناہ پر غالب آیا جا سکتا ہے۔ یا اکثر حصہ جماعت کا ایسے لوگوں پر مشتمل ہو گا اور ہو سکتا ہے جو گناہوں پر غالب آ جائے۔ (ماخوذ از خطبات محمود جلد 17 صفحه 452-453 خطبه جمعه بیان فرموده 10 جولائی 1936 مطبوعہ فضل عمر فاؤنڈیشن ربوہ )