سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 54 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 54

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 22 لعنت ہے۔ جب چیزیں لینی ہوں تو یہ بھی نہیں دیکھتے کہ یہ اُن کو کہاں لے جائے گا۔ بہر حال یہ چیزیں خرید نا یا سود پر قرض دینا ہی ہے جس نے آخر کار بہتوں کو دیوالیہ کر دیا۔ بہر حال نقل کی یہ بات ہو رہی تھی کہ لوگ دنیاوی باتوں میں نقل کرتے ہیں اور اُس کے حصول کے لئے یا تو عزت نفس کو داؤ پر لگا دیتے ہیں یا دیوالیہ ہو کر اپنی جائیداد سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ یعنی دنیاوی باتوں کی نقل میں فائدے کم اور نقصان زیادہ ہیں۔ لیکن دین کے معاملے میں نقل اور ویسا بننے کی کوشش کرنا جیسا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس زمانے میں ہمارے سامنے نمونہ پیش فرمایا ہے ، بلکہ ہم میں سے تو بہت سوں نے اُن صحابہ کو بھی دیکھا ہوا ہے جنہوں نے قرب الہی کے نمونے قائم کئے۔ لیکن اُن کی نقل کی ہم کوشش نہیں کرتے جبکہ نقصان کا تو یہاں سوال ہی پیدا نہیں ہو تا بلکہ فائدہ ہی فائدہ ہے اور فائدہ بھی ایسا ہے جس کو کسی پیمانے سے ناپا نہیں جا سکتا۔ پس کیا وجہ ہے کہ ہم اس نقل کی کوشش نہیں کرتے جو نیکیوں میں بڑھانے والی چیز کی نقل ہے۔ اللہ تعالیٰ سے تعلق کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے صاف ظاہر ہے کہ یا تو ہمیں ان چیزوں کا بالکل ہی علم نہیں دیا جاتا جس کی وجہ سے احساس پیدا نہیں ہو تا یا اتنا تھوڑا علم اور اتنے عرصے بعد دیا جاتا ہے کہ ہم بھول جاتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اپنے تازہ بتازہ نشانات آج بھی دکھا رہا ہے۔ نتیجہ ہماری اس طرف توجہ نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے جبکہ دنیاوی چیزوں کے لئے ہم آتے جاتے ٹی وی پر ، اخبارات پر دس مرتبہ اشتہارات دیکھتے ہیں اور دماغ میں بات بیٹھ جاتی ہے کہ میں نے کسی نہ کسی ذریعہ سے یہ چیز لینی ہے، حاصل کرنی ہے۔ اور اگر کسی کو سمجھایا جائے یا کوئی ویسے ہی کہہ دے کہ جب وسائل نہیں ہیں تو اس چیز کی تمہیں کیا ضرورت ہے ؟ تو فوراً جواب ملتا ہے کہ کیا غریب کے جذبات نہیں ہوتے ، کیا ہمارے جذبات نہیں ہیں، کیا ہمارے بچوں کے جذبات نہیں ہیں کہ ہمارے پاس یہ چیز ہو لیکن یہ جذبات کبھی اس بات کے لئے نہیں ابھرتے کہ الہامات کا تذکرہ سن کر یہ خواہش پیدا ہو کہ ہمارے سے بھی کبھی خدا تعالیٰ کلام کرے۔ ہمارے لئے بھی خدا تعالیٰ نشانات دکھائے اور اپنی محبت سے ہمیں