سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 53
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 21 حاصل کرنے کی خواہش کرتے ہیں یا کوشش کرتے ہیں اور پھر اس کے لئے کئی طریقے بھی استعمال کرتے ہیں، اور اس معاملے میں ہر ایک اپنی سوچ اور اپنی پہنچ کے مطابق عمل کرنے کی یا نقل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ کوئی کسی کا مثلاً اچھا، خوبصورت جوڑا ہی پہنا ہوا دیکھ لے، سوٹ پہنا ہوا دیکھ لے تو اس کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اُس کو بھی مل جائے اور اُس کے پاس بھی ایسا ہی ہو۔ کوئی کوئی اور چیز دیکھتا ہے تو اُس کی خواہش پیدا ہو جاتی ہے۔ اب تو ٹی وی نے دنیا کو ایک دوسرے کے اتنا قریب کر دیا ہے کہ متوسط طبقہ تو الگ رہا، غریب افراد بھی یہ کوشش کرتے ہیں کہ میرے پاس زندگی کی فلاں سہولت بھی موجود ہونی چاہیے اور فلاں سہولت بھی موجود ہونی چاہیے۔ ٹی وی بھی ہو میرے پاس اور فریج بھی ہو میرے پاس کیونکہ فلاں کے پاس بھی ہے۔ وہ ہو اور ہو بھی تو میرے جیسا ہے۔ یہ نہیں سوچتے کہ اگر فلاں کو یا زید کو یہ چیزیں اُس کے کسی عزیز نے تحفہ لے کر دی ہیں تو مجھے اس بات پر لالچ نہیں کرنا چاہیے۔ فوراً یہ خیال ہوتا ہے کہ زید کے پاس یہ چیز ہے تو میرے پاس بھی ہو اور پھر قرض کی کوشش ہو جاتی ہے۔ یا بعض لوگوں کو اس کام کے لئے بعض جگہوں پر امداد کی درخواست دینے کی بھی عادت ہو گئی ہے۔ بیشک جماعت کا فرض ہے کہ اپنے وسائل کے اندر رہتے ہوئے ضرورت مند کی ضرورت پوری کرے لیکن درخواست دینے والوں کو ، خاص طور پر پاکستان، ہندوستان یا بعض اور غریب ممالک بھی ہیں، اُن کو جائز ضرورت کے لئے درخواست دینی چاہیے اور اپنی عزت نفس کا بھی بھرم رکھنا چاہیے۔ اسی طرح ذرا بہتر معاشی حالت کے لوگ ہیں تو دیکھا دیکھی وہ بھی بعض چیزوں کی خواہش کرتے ہیں، نقل کرتے ہیں۔ کسی نئے قسم کا صوفہ دیکھا تو اُس کو لینے کی خواہش ہوئی۔ نئے ماڈل کے ٹی وی دیکھے تو اُس کو لینے کی خواہش ہوئی یا اسی طرح بجلی کی دوسری چیزیں یا اور gadget جو ہیں وہ دیکھے تو اُن کو لینے کی خواہش ہوئی۔ یا کاریں قرض لے کر بھی لے لیتے ہیں۔ ضمناً یہ بھی یہاں بتا دوں کہ آجکل دنیا کے جو معاشی بد حالی کے حالات ہیں اُن کی ایک بڑی وجہ بنکوں کے ذریعہ سے ان سہولتوں کے لئے سود پر لئے ہوئے قرض بھی ہیں۔ سود ایک بڑی