سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 52
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 20 نہیں یا ایک مرتبہ اعتکاف بیٹھ کر پھر سارا سال یا کئی سال اس کا اظہار کر کے نہیں بلکہ مستقل مزاجی سے اس شوق اور لگن کو اپنے اوپر لاگو کر کے ، تاکہ اللہ تعالیٰ کا قرب مستقل طور پر حاصل ہو ، ہم میں سے کتنے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ پیار کا سلوک کرتے ہوئے دعاؤں کے قبولیت کے نشان دکھاتا ہے، اُن سے بولتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مان کر یہ معیار حاصل کرنا یا حاصل کرنے کی کوشش کرنا ہر احمدی کا فرض ہے۔ پس اسلام کے احیائے نو کا یہی تو وہ انقلاب ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پیدا کرنے کے لئے آئے تھے۔ اگر واقع میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا مقام ہر ایک کو معلوم ہو اور آپ کی بعثت کے مقصد کو پورا کرنے کی ہر ایک میں تڑپ ہو ، اگر ہمیں پتا ہو کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ پر کتنے عظیم نشانات دکھائے اور آپ کے ماننے والوں میں سے بھی بے شمار کو نشانات سے نوازا تو ہم میں سے ہر ایک اُس مقام کے حصول کی خواہش کرتا اور اس کے لئے کوشش کرتا جہاں اُس سے بھی براہ راست یہ نشان ظاہر ہوتے اور اُسے نظر آتے۔ قوتِ ایمان میں وہ جلاء پیدا ہو جاتی جس کے ذریعہ سے پھر ایسی قوتِ ارادی پیدا ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے قرب کے حصول کے لئے ایک خاص جوش پیدا کر دیتی ہے۔ پس اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے نشانات جن کا اظہار اللہ تعالیٰ آج تک فرماتا چلا آرہا ہے ہمارے دلوں میں ایک جوت جگانے والا ہونا چاہیے کہ ہم بھی اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کر کے آپ علیہ السلام اور اپنے اور آپ کے آقا و مطاع حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت کے طفیل آپ کے ہر اُسوہ کو اپنے اوپر لاگو کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اُس مقام پر پہنچ جائیں جہاں اللہ تعالیٰ ہم سے ایک خاص پیار کا سلوک کر رہا ہو۔ ہم دنیاوی چیزوں کی نقل کرتے ہیں۔۔۔ اس نقل کی کوشش نہیں کرتے جو نیکیوں ۔۔۔ کی نقل ہے ہم دنیاوی چیزوں میں تو دوسروں کی نقل کرتے ہیں۔ کسی کی اچھی چیز دیکھ کر اُس کو