سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 51
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 19 علم ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہمارے سامنے اللہ تعالیٰ کو کس رنگ میں پیش کیا ؟ آپ نے آپ نے معرفت اور محبت الہی کے حصول کے کیا طریق بتائے ؟ اُس کا قرب حاصل کرنے کی آپ نے کن الفاظ میں تاکید کی ؟ خدا تعالیٰ کے تازہ کلام اور اُس کے معجزات و نشانات آپ پر کس شان سے ظاہر ہوئے؟ (ماخوذ از خطبات محمود جلد 17 صفحہ 450-451 خطبہ جمعہ بیان فرمودہ 10 جولائی 1936ء مطبوعہ فضل عمر فاؤنڈیشن ربوہ ) اس لئے بعض دفعہ ایسا بھی ہو جاتا ہے کہ ایک شخص وفات مسیح کا تو قائل ہوتا ہے ، اُس کی دلیل بھی جانتا ہے۔ ماں باپ کی وراثت میں اُسے احمدیت بھی مل گئی ہے لیکن ان باتوں کا علم ہونے کے باوجود، کہ یہ سب کچھ جانتا ہے، دوسری طرف ان باتوں کا علم نہ ہونے کی وجہ سے ایمانی کمزوری پیدا ہو جاتی ہے جو ابھی میں نے کیں کہ اللہ تعالیٰ کی معرفت یا خد اتعالیٰ کے تازہ کلام کے معجزات و نشانات یا قرب حاصل کرنے کے طریق، اس کا علم نہیں ہو تا اس لئے کمزوری پیدا ہو جاتی ہے۔ ایمان بھی ڈانواڈول ہونے لگتا ہے اور عملی کمزوریاں بھی پیدا ہو جاتی ہیں۔ پس بے شک وفات مسیح کے مسئلے میں تو ایک شخص بڑا پکا ہوتا ہے لیکن اس مسئلے کے جاننے سے اُس کی عملی اصلاح نہیں ہو سکتی۔ اس لئے اس پہلو سے جماعت میں بعض جگہ کمزوری نظر آتی ہے۔ پس جب تک ہماری جماعت کے علماء، مربیان اور وہ تمام امراء اور عہدیداران جن کے ذمہ جماعت کے سامنے اپنے نمونے پیش کرنے اور اصلاح کے کام بھی ہیں، اس بات کی طرف ویسی توجہ نہیں کرتے جیسی کرنی چاہیے اور جماعت کے ہر فرد کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کے مقصد کے ساتھ جوڑنے کی کوشش نہیں کرتے جو کوشش کرنے کا حق ہے، اُس وقت تک جماعت کا وہ طبقہ جو قوتِ ارادی کی کمزوری کی وجہ سے عملی اصلاح نہیں کر سکتا، جماعت میں کثرت سے موجو د رہے گا۔ اللہ تعالیٰ کا قرب مستقل طور پر حاصل ہو ہمیں اس بات کو جاننے کی ضرورت ہے اور جائزے کی ضرورت ہے کہ ہم دیکھیں کہ ہم میں سے کتنے ہیں جنہیں یہ شوق ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں۔رمضان میں ایک مہینہ