سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 50
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 18 تعالیٰ کا تازہ بتازہ کلام ، اُس کے زندہ معجزات اور اُس کی ہستی کا مشاہدہ کرانے والے نشانات موجود ہوں، جو انسانی قلوب کو ہر قسم کی آلائشوں سے صاف کرتے اور اللہ تعالیٰ کی معرفت سے لبریز کر دیتے ہیں۔ کیوں ہماری جماعت کے اعمال میں کمزوری ہے ؟ لیکن باوجود اس ایمان کے اور باوجود ان تازہ اور زندہ معجزات کے پھر کیوں ہماری جماعت کے اعمال میں کمزوری ہے ؟ اس کے متعلق حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے خیال کا یہ اظہار فرمایا ہے کہ وجہ یہ ہے کہ سلسلہ کے علماء، مربیان اور واعظین نے اس کو پھیلانے کی طرف خاص توجہ نہیں دی۔ حضرت مصلح موعودؓ کی یہ بات جس طرح آج سے پچہتر ، چھہتر سال پہلے صحیح تھی، آج بھی صحیح ہے اور اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اور جوں جوں ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے سے دُور جارہے ہیں، ہمیں اس طرف مکمل planning کر کے توجہ کی ضرورت ہے۔ پس آپ کا یہ فرمانا آج بھی قابلِ توجہ ہے کہ کیا وجہ ہے کہ وفات مسیح پر جس شد و مد سے تقریریں کرتے ہیں یا معترضین کے اعتراضات پر حوالوں کے حوالے نکال کر اُن کے یعنی اُن معترضین کے بزرگوں کے جو اقوال ہیں، معترضین کے سامنے ہم پیش کرتے ہیں اور اُن کا منہ بند کر دیتے ہیں۔ اتنی کوشش جماعت کے افراد کے سامنے جماعت کی صحیح تعلیم پیش کرنے کی نہیں ہوئی یا کم از کم علماء کی طرف سے نہیں ہوتی۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہماری جماعت میں ایسے لوگ تو مل جائیں گے جو وفات مسیح کے دلائل جانتے ہوں یا مولوی کے اعتراضات کے منہ توڑ جواب دے: راب دے سکتے ہوں۔ یہاں بھی آپ دیکھیں کہ بعض چینلز پر یا انٹر نیٹ پر مولوی جو اعتراض کرتے ہیں اُن کے جواب اور بعض دفعہ بڑے عمدہ اور احسن رنگ میں جواب ایک عام احمدی بھی دے دیتا ہے۔ مجھے بھی بعض لوگ ٹی وی کے حوالے سے اپنی گفتگو کے بارے میں رپورٹ بھجواتے ہیں اور اپنے جوابات بھی لکھتے ہیں اور اُن کے جواب بھی اکثر اچھے اور علمی ہوتے ہیں۔ پس اس لحاظ سے تو ہم ہتھیاروں سے لیس ہیں مگر ایسے لوگ بہت کم ملیں گے جنہیں یہ