سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 501 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 501

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 469 پس یہ بہت اہم بات ہے ، بہت ڈرانے والی بات ہے، بہت توجہ دلانے والی بات ہے اس کی طرف ہمیں توجہ رکھنی چاہیے۔ اگر ہم نے اپنی زندگیوں کو یہ چند باتیں جو میں نے کی ہیں اس کے مطابق ڈھال لیا تو ہم سمجھ لیں کہ ہم نے اپنی بیعت کے حق کو بھی پورا کیا اور انصار اللہ ہونے کا حق بھی ادا کر دیا۔ اللہ تعالٰی اس حق کو ادا کرنے کی ہر ایک کو توفیق عطا فرمائے۔ فرماتے ہیں: آخر میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کا ایک اقتباس اور پڑھتا ہوں۔ آپ تمام کامیابی ہماری معاشرت اور آخرت کے تعاون پر ہی موقوف ہو رہی ہے۔ کیا کوئی اکیلا انسان کسی کام دین یا دنیا کو انجام دے سکتا ہے ہر گز نہیں۔ کوئی کام دینی ہو یا دنیوی بغیر معاونت با ہمی کے چل ہی نہیں سکتا۔ ہر ایک گروہ کہ جس کا مدعا اور مقصد ایک ہی ہے مثل اعضاء یک دیگر ہے اور ممکن نہیں۔ مختلف اعضاء ہیں لیکن جسم ایک ہے۔ ”جو کوئی فعل جو متعلق غرض مشترک اس گروہ کے ہے بغیر معاونت باہمی ان کی کے بخوبی و خوش اسلوبی ہو سکے ۔ “ کوئی کام جو مشترک کام ہے بغیر باہمی معاونت کے ایک دوسرے کی مدد کرنے کے خوش اسلوبی سے سر انجام نہیں پاسکتا۔ پس آپس میں معاونت ضروری ہے۔ فرمایا کہ: ” بالخصوص جس قدر جلیل القدر کام ہیں اور جن کی علت غائی جس کا آخری نتیجہ ”کوئی فائدہ عظیمہ جمہوری ہے یعنی بہت بڑا فائدہ جو پوری قوم کو ملنے والا ہے وہ تو بجز جمہوری اعانت کے کسی طور پر انجام پذیر ہی نہیں ہو سکتے ۔ ” قوم کا فائدہ اٹھانے کے لئے پوری قوم کو اکٹھا ہو کے کام کرنا پڑے گا اور صرف ایک ہی شخص اس کا متحمل ہر گز نہیں ہو سکتا اور نہ کبھی ہوا۔ انبیاء علیہم السلام جو تو کل اور تفویض اور تحمل اور مجاہدات افعال خیر میں سب سے بڑھ کر ہیں ان کو بھی بہ رعایت اسباب ظاہری مَنْ أَنْصَارِي إِلَى الله (الصف: 15) کہنا پڑا۔ “ انبیاء نے بہت سارے کام کئے ان کو اللہ تعالیٰ نے سپر د کیسے ان سے وعدے بھی کئے لیکن انہوں نے بھی جماعت اکٹھی کی اور کہا کہ مَنْ أَنْصَارِي إِلَى اللهِ۔