سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 500 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 500

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 468 کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میر امرنا، میرا جینا، میری نماز ، میری قربانیاں اللہ ہی کے لئے ہیں اور سب سے پہلے میں اپنی گردن رکھتا ہوں۔ یہ فخر اسلام کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو اولیت کا ہے۔ نہ ابراہیم کو نہ کسی اور کو۔ یہ اسی کی طرف اشارہ ہے كُنْتُ نَبِيًّا وَآدَمُ بَيْنَ الْمَاءِ وَالطَّيْنِ ۔ اگرچہ آپ سب نبیوں کے بعد آئے مگر یہ صدا کہ میر امرنا اور میرا جینا اللہ تعالی کے لئے ہے دوسرے کے منہ سے نہیں نکلی۔“ اور فرمایا کہ: ”اب دنیا کی حالت کو دیکھو کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اپنے عمل سے یہ دکھایا کہ میرا مرنا اور جینا سب کچھ اللہ تعالیٰ کے لئے ہے اور یا اب دنیا میں مسلمان موجو د ہیں۔ کسی سے کہا جاوے کہ کیا تو مسلمان ہے ؟ تو کہتا ہے۔ الحمد للہ ۔ جس کا کلمہ پڑھتا ہے اس کی زندگی کا اصول تو خدا کے لئے تھا مگر یہ دنیا کے لئے جیتا اور دنیا ہی کے لئے مرتا ہے۔ “ کہتے تو یہ ہیں کہ الحمد للہ ہم مسلمان ہیں لیکن جس کے لئے کلمہ پڑھا محمد رسول اللہ کا وہ تو خدا کے لئے جیتے اور مرتے تھے لیکن عام انسان مسلمان کہلانے کے باوجود دنیا کے لئے مرتے اور جیتے ہیں۔ فرمایا: ”اس وقت تک کہ غرغرہ شروع ہو جاوے دنیا ہی اس کی مقصود ، محبوب اور مطلوب رہتی ہے۔ “ موت تک یہی باتیں ہوتی ہیں کہ دنیا کس طرح کمائیں۔ ” پھر کیونکر کہہ سکتا ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتا ہوں۔“ دو فرمایا ” یہ بڑی غور طلب بات ہے اس کو سر سری نہ سمجھو۔“ بڑی غور طلب بات ہے اس کو سرسری نہ سمجھو۔ مسلمان بننا بہت مشکل کام ہے اور جو اسوہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم فرمایا اس پر چلنا بہت مشکل کام ہے۔ اس کے لئے محنت کرنی پڑے گی۔ اطاعت اس کو سر سری نہ سمجھو۔ مسلمان بننا آسان نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اور اسلام کا نمونہ جب تک اپنے اندر پیدا نہ کرو مطمئن نہ ہو۔“ (ملفوظات جلد 2 صفحہ 186- )187 ایڈیشن 1984ء