سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 499 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 499

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 467 حقیقی مسلمان بننا ہے تو اپنی زندگی میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نمونہ دکھانے کی کوشش کرو پھر آپ نے فرمایا کہ حقیقی مسلمان بننا ہے تو اپنی زندگی میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نمونہ دکھانے کی کوشش کرو۔ وہی حالت پیدا کر و جو آپ نے پیدا کی اور جس کا اسوہ ہمارے سامنے قائم فرمایا ورنہ پھر ہم شیطان کے پیر و بن جائیں گے اگر یہ کوشش ہم نے نہ کی۔ پس بہت خوف کا مقام ہے اور خاص طور پر انصار اللہ کے اوپر بہت بڑی ذمہ داریاں ہیں ان کو تو بہت زیادہ خوف کرنا چاہیے اور بہت زیادہ کوشش کرنی چاہیے کہ اپنی حالتوں کو ایسا کریں کہ کبھی شیطان کے پیرونہ بن سکیں۔ آپ نے فرمایا کہ : ” سعادت عظمی کے حصول کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک ہی راہ رکھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی جاوے جیسا کہ اس آیت میں صاف فرما دیا ہے۔ قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ ( آل عمران: 33) یعنی آؤ میری پیروی کرو تا کہ اللہ بھی تم کو دوست رکھے۔ اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ رسمی طور پر عبادت کرو۔ اگر حقیقت مذہب یہی ہے تو پھر نماز کیا چیز ہے۔ “ رسمی باتیں اگر ہیں تو پھر نماز کیا چیز ہے؟ اور روزہ کیا چیز ہے۔ خود ہی ایک بات سے رکے اور خود ہی کرلے۔“ 66 خود ہی اپنی تشریح کر لی کہ ہم اس وقت نماز پڑھیں گے یہ نماز ہے اور یہ روزہ ہے۔ نہیں نمونہ ہمارے سامنے قائم ہے وہ دیکھنا ہو گا۔ فرمایا یعنی خود اپنی مرضی سے یہ کام کیا اور مرضی ہوئی تو نماز پڑھ لی مرضی ہوئی تو نہ پڑھی۔ مرضی ہوئی تو روزہ رکھا مرضی ہوئی تو نہ رکھا تو یہ تو کوئی بات نہیں۔ پھر مذہب کا کیا فائدہ ہے۔ فرمایا کہ اگر حقیقت مذہب یہی ہے تو پھر نماز کیا چیز ہے اور روزہ کیا چیز ۔ اگر اپنی مرضی سے ہی کرنا ہے سب کچھ تو پھر نماز روزے کی تو کوئی اہمیت نہیں ہے۔ اسلام محض اس کا نام نہیں ہے۔ اسلام تو یہ ہے کہ بکرے کی طرح سر رکھ دے جیسا