سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 498
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 466 ایک shell ہے جو تم نے اپنے اوپر اوڑھ لیا ہے ، چڑھایا ہوا ہے۔ جس کے اندر تم چلے گئے ہو۔ اس کی حقیقت کچھ نہیں ہے۔ فرمایا کہ جو بیعت اور ایمان کا دعویٰ کرتا۔ عویٰ کرتا ہے اس کو ٹٹولنا چاہیے کہ کیا میں چھلکا ہی ہوں یا مغز صرف تمہارے اوپر shell ہے ، یا اس کے اندر گودا بھی ہے۔ خول چڑھا ہوا ہے یا اس کے اندر حقیقت میں وہ معرفت بھی ہے جو ایک بیعت کرنے والے کو حاصل ہونی چاہیے اور وہ مغز بھی ہے جو بیعت کرنے والے میں موجود ہونا چاہیے۔ اس کا اظہار اس کے ہر عمل سے ہونا چاہیے۔ فرمایا کہ جب تک مغز پیدانہ ہو ایمان ، محبت، اطاعت ، بیعت، اعتقاد، مریدی، اسلام کا سچا مدعی کچھ نہیں۔ یہ سب باتیں ختم ہیں اگر مغز نہیں۔ (ماخوذ از ملفوظات جلد 2 صفحہ 167 ایڈیشن 1984ء) یاد رکھو کہ یہ سچی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور مغز کے سوا چھلکے کی کچھ بھی قیمت دوا نہیں۔ “ خوب یاد رکھو کہ معلوم نہیں موت کس وقت آجاوے اور خاص طور پر انصار کی عمر کو پہنچنے کے بعد کچھ پتہ نہیں ہوتا لیکن یہ یقینی امر ہے کہ موت ضرور ہے۔ فرمایا: ” پس نرے دعویٰ پر ہر گز کفایت نہ کرو اور خوش نہ ہو جاؤ وہ ہر گز ہر گز فائدہ رساں چیز نہیں۔ جب تک انسان اپنے آپ پر بہت موتیں وارد نہ کرے اور بہت سی تبدیلیوں اور انقلابات میں سے ہو کر نہ نکلے وہ انسانیت کے اصل مقصد کو نہیں پاسکتا۔ “ فرمایا : ” انسان کے معنی یہ ہیں کہ انسان اصل میں انس سے لیا گیا ہے یعنی جس میں دو حقیقی انس ہوں۔ ایک اللہ تعالیٰ سے اور دوسر ابنی نوع کی ہمدردی سے۔“ ایک اللہ تعالیٰ کی محبت ، دوسری بنی نوع کی ہمدردی اور محبت۔ ” جب یہ دونوں اُنس اس میں پیدا ہو جاویں اس وقت انسان کہلاتا ہے اور یہی وہ بات ہے جو انسان کا مغز کہلاتی ہے۔ اگر یہ نہیں۔ اگر یہ دونوں باتیں اس میں نہیں ہیں تو انسان نہیں کہلا سکتا۔ کہنے کو تو انسان ہے لیکن حقیقی انسان نہیں ہے اور اسی مقام پر انسان اولوالالباب کہلاتا ہے۔ حقیقی اور عقلمند انسان کہلا سکتا ہے۔ ” جب تک یہ نہیں کچھ بھی نہیں۔ ہزار دعویٰ کر دکھاؤ مگر اللہ تعالیٰ کے نزدیک ، اس کے نبی اور اس کے فرشتوں کے نزدیک بیچ ہے ۔ “ ( ملفوظات جلد 2 صفحہ 168،167 ایڈیشن 1984ء)