سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 497 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 497

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 465 زمانہ میں تو اور بھی زیادہ یہی پڑھنے کے قابل کتاب ہو گی جبکہ اور کتابیں بھی پڑھنے میں اس کے ساتھ شریک کی جائیں گی۔ اس وقت اسلام کی عزت بچانے کے لئے اور بطلان کا استیصال کرنے کے لئے یہی ایک کتاب پڑھنے کے قابل ہو گی اور دیگر کتابیں قطعاً چھوڑ دینے کے لائق ہوں گی۔ فرقان کے بھی یہی معنے ہیں۔ یعنی یہی ایک کتاب حق و باطل میں فرق کرنے والی ٹھہرے گی اور کوئی حدیث کی یا اور کوئی کتاب اس حیثیت اور پایہ کی نہ ہو گی۔ اس لئے اب سب کتابیں چھوڑ دو اور رات دن کتاب اللہ ہی کو پڑھو۔ بڑا بے ایمان ہے وہ شخص جو قرآن کریم کی طرف التفات نہ کرے اور دوسری کتابوں پر ہی رات دن جھکا ر ہے۔“ فرماتے ہیں کہ ” ہماری جماعت کو چاہیے کہ قرآن کریم کے شغل اور تدبر میں جان و دل سے مصروف ہو جائیں اور حدیثوں کے شغل کو ترک کریں۔ بڑے تاسف کا مقام ہے کہ قرآن کریم کا وہ اعتنا اور تدارس نہیں کیا جاتا اس طرح نہیں پڑھا جاتا ”جو احادیث کا کیا جاتا ہے۔ اس وقت قرآن کریم کا حربہ ہاتھ میں لو تو تمہاری فتح ہے۔ اس نور کے آگے کوئی ظلمت نہ ٹھہر سکے گی“ (ملفوظات جلد 2 صفحہ 122 ۔ ایڈیشن 1984ء) پس فرمایا کہ قرآن کریم کو اول فوقیت دو ، حدیثوں کو اتنا اپنے اوپر سوار نہ کرو کہ حدیث میں یہ آیا ہے۔ قرآن کریم کی تعلیم پر غور کرو اس پر عمل کرو اس کی تشریح دیکھو اس کی تفسیر دیکھو اور ہاں دوسری جگہ یہ بھی فرمایا کہ جو حدیثیں قرآن کریم کی تائید کرتی ہیں اس کی تشریح کرتی ہیں ان کو مانو لیکن یہ کہنا کہ یہ حدیث میں آیا ہے اور اس کی سمجھ بھی تمہیں نہ آئے اور حدیث قرآن سے ٹکراتی ہے تو وہ حدیث قابل قبول نہیں ہے۔ پس اصل حقیقت اصل چیز قرآن کریم ہے۔ قرآن کریم کو پڑھنے کی طرف توجہ دینی چاہیے اور خاص طور پر انصار کو اس طرف خاص توجہ دینی چاہیے اور نہ صرف خود توجہ دینی چاہیے بلکہ اپنے بچوں کو بھی اس طرف توجہ دلانی چاہیے تا کہ وہ بھی قرآن کریم پڑھیں اور اپنی حالتوں کو بہتر کریں۔ پھر بیعت کی اہمیت کے بارے میں آپ فرماتے ہیں۔ تم نے میرے سے بیعت کی ہے تو حقیقی بیعت کس طرح ہو سکتی ہے اور اگر حقیقی بیعت نہیں تو صرف پوست ہے۔ یہ صرف