سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 496 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 496

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 464 پیاس نہیں بجھتی اس طرح اس کی بھی پیاس نہیں بجھتی دنیا کی۔ دنیا میں ڈوبتے چلے جاؤ گے تو دنیا کی لالچ اور لالچ کی طرف لے جاتی رہے گی اور ایک پیاس کے مریض کی طرح انسان یہی چاہے گا کہ میں دولت کو حاصل کرتا ہی چلا جاؤں۔ پانی کو پیتا ہی چلا جاؤں اور فرمایا کہ پیاس نہیں بجھتی ” یہاں تک کہ ہلاک ہو جاتے ہیں پس دولت کا بھی یہی حال ہے کہ انسان دولت کے پیچھے اپنے آپ کو ہلاک کر لیتا ہے۔ فرمایا کہ : ” یہ بے جا آرزؤں اور حسرتوں کی آگ بھی منجملہ اسی جہنم کی آگ کے ہے جو انسان کے دل کو راحت اور قرار نہیں لینے دیتی بلکہ اس کو ایک تذبذب اور اضطراب میں غلطان و پیچان رکھتی ہے۔ اس لئے میرے دوستوں کی نظر سے یہ امر ہر گز پوشیدہ نہ رہے۔“ فرماتے ہیں میرے دوستوں کی نظر سے یہ امر پوشیدہ نہ رہے۔ فرمایا: ”میرے دوستوں کی نظر سے یہ امر ہر گز پوشیدہ نہ رہے کہ انسان مال و دولت یا زن و فرزند کی محبت کے جوش اور نشے میں ایسا دیوانہ اور از خودرفتہ نہ ہو جاوے کہ اس میں اور خدا تعالیٰ میں ایک حجاب پیدا ہو جاوے۔ مال اور اولاد اسی لئے تو فتنہ کہلاتی ہے۔ ان سے بھی انسان کے لئے ایک دوزخ تیار ہوتا ہے اور جب وہ ان سے الگ کیا جاتا ہے تو سخت بے چینی اور گھبراہٹ ظاہر کرتا ہے۔ ( ملفوظات جلد 2 صفحہ 101 102 ۔ ایڈیشن 1984ء) یعنی اولاد اور مال سے جب انسان علیحدہ ہو جائے ، نقصان پہنچے تو بڑا بے چین ہو جاتا ہے۔ قرآن کریم کے شغل اور تدبر میں جان و دل سے مصروف ہو جائیں فتح پھر قرآن کریم پڑھنے کی طرف نصیحت کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ : ” دن رات تم قرآن کریم کو پڑھو۔ یہ حربہ اپنے ہاتھ میں لے لو کیونکہ تمہاری فتح اسی کے ذریعہ سے ہوئی ہے۔“ لو اس قرآن کریم کی تعلیم کو پڑھو اس پر عمل کرو گے تو تمہاری فتح ہو گی۔ فرمایا: ”اگر ہمارے پاس قرآن نہ ہوتا اور حدیثوں کے یہ مجموعے ہی مایہ ناز ایمان و اعتقاد ہوتے تو ہم قوموں کو شرمساری سے منہ بھی نہ دکھا سکتے ۔“ 66 فرمایا کہ : ” میں نے قرآن کریم کے لفظ میں غور کی تب مجھ پر کھلا کہ اس مبارک لفظ میں ایک زبر دست پیش گوئی ہے۔ وہ یہ ہے کہ یہی قرآن یعنی پڑھنے کے لائق کتاب ہے اور ایک