سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 495 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 495

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 463 نہ ہوں بلکہ یہ دین کی خدمت کرنے کے لئے مقرر کئے گئے ہیں ان سے فائدہ اٹھاؤ۔ فرمایا کہ: ” دولت مندوں سے بسا اوقات ایسے کام ہوتے ہیں کہ غریبوں اور مفلسوں کو وہ موقع نہیں ملتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں خلیفہ اول نے یعنی حضرت ابو بکر صدیق جو بڑے ملک التجار تھے مسلمان ہو کر لا نظیر مدد کی اور آپ کو یہ مرتبہ ملا کہ صدیق کہلائے اور پہلے رفیق اور خلیفہ اول ہوئے ۔ “ ( ملفوظات جلد 2 صفحہ 192 یڈیشن 1984ء) آپ فرماتے ہیں کہ یہ مقام حضرت خلیفہ اول کو اس لئے ملا کہ آپؐ نے دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا جو عہد کیا تھا اس کو پورا کیا اور اگر ہر شخص اس عہد کو پورا کر تا رہے گا تو اس کو بھی حفظ مراتب کے طور پر اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے نواز تارہے گا۔ جو جو اس کا مقام ہے جیسا جیسا اس کی نیکیاں ہیں اس کے مطابق اللہ تعالیٰ ان کو نو از تا چلا جائے گا۔ یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ بغیر نوازے چھوڑے۔ پھر ایک جگہ نصیحت کرتے ہوئے آپؐ نے فرمایا کہ ” جہنم کیا چیز ہے؟ فرمایا کہ ” ایک جہنم تو وہ ہے جس کا مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے وعدہ دیا ہے اور دوسرے یہ زندگی بھی اگر خدا تعالیٰ کے لئے نہ ہو تو جہنم ہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کو مقدم رکھو گے تو جنت ملے گی۔ نہیں تو جہنم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ایسے انسان کا تکلیف سے بچانے اور آرام دینے کے لئے متولی نہیں ہوتا۔ یہ خیال مت کرو کہ کوئی ظاہری دولت یا حکومت، مال و عزت، اولاد کی کثرت کسی شخص کے لئے کوئی راحت یا اطمینان ، سکینت کا موجب ہو جاتی ہے اور وہ دم نقد بہشت ہی ہوتا ہے؟ نہیں ہر گز نہیں۔ وہ اطمینان تسلی اور وہ تسکین جو بہشت کی انعامات ۔ میں سے ہیں ان باتوں سے نہیں ملتی وہ خدا ہی میں زندہ رہنے اور مرنے سے مل سکتی ہے جس کے لئے انبیاء علیہم السلام خصوصاً ابراہیم اور یعقوب علیہما السلام کی یہی وصیت تھی کہ لا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَانْتُمْ مُّسْلِمُونَ (البقرة : 133) کہ جب تک فرمانبرداری نہ ہو اس وقت تک مرنا نہیں۔ یعنی اپنے مرنے تک تم نے فرمانبر دار رہنا ہے۔ فرمایا کہ: ” لذات دنیا تو ایک قسم کی ناپاک حرص پیدا کر کے طلب اور پیاس کو بڑھا دیتی ہیں۔ استسقاء کے مریض کی طرح پیاس نہیں بھتی۔ جس کو پانی کی پیاس کا مرض ہوتا ہے اس کی