سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 494
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 462 امت پوری نہ ہو گی ؟ وہ ضرور ہو گی۔ “ اور فرمایا کہ : ” میں امید رکھتا ہوں کہ میرے وجود سے انشاء اللہ ایک صالح جماعت پیدا ہو گی۔“ پس اگر ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صالح جماعت میں شامل ہونا ہے تو آپس کے بعضوں کو بھی دور کرنا ہو گا۔ فرمایا کہ ”باہمی عداوت کا سبب کیا ہے ؟ بخل ہے۔ رعونت ہے۔ خود پسندی ہے اور جذبات ہیں“۔ فرمایا کہ : ” جو اپنے جذبات پر قابو نہیں پاسکتے اور باہم محبت اور اخوت سے نہیں رہ سکتے۔ جو ایسے ہیں وہ یاد رکھیں کہ وہ چند روزہ مہمان ہیں جب تک کہ عمدہ نمونہ نہ دکھائیں۔“ وہ ظاہر میں تو یہ کہتے رہیں گے کہ ہم جماعت میں شامل ہیں لیکن حقیقت میں وہ اپنی زندگی تک ہی مہمان ہیں۔ چاہے وہ زندہ رہنے تک اپنے آپ کو احمدی ہونے کا دعوی کرتے رہیں جب تک کہ وہ عمدہ نمونہ دکھا کر اس تعلیم پر عمل نہ کریں وہ احمدی ہونے کا حق ادا نہیں کرتے جس کی تعلیم ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسلامی تعلیم کی روشنی میں دی ہے۔ ایسے لوگ اللہ تعالی کی نظر میں احمدی نہیں ہیں۔ فرمایا: ”میں کسی کے سبب سے اپنے اوپر اعتراض لینا نہیں چاہتا۔ ایسا شخص جو میری جماعت میں ہو کر میرے منشاء کے موافق نہ ہو وہ خشک ٹہنی ہے۔ اس کو اگر باغبان کاٹے نہیں تو کیا کرے۔“ (ملفوظات جلد 2 صفحہ 48، 49 ایڈیشن 1984ء) دنیا کو مقصود بالذات نہ بناؤ بلکہ دین کو بناؤ پھر آپ نے فرمایا، ایک نصیحت یہ فرمائی کہ دنیا کو مقصود بالذات نہ بناؤ بلکہ دین کو بناؤ اور دنیا اس کے لئے بطور خادم اور مرکب ہے۔ وضاحت کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ مومن کو چاہیے کہ وہ جدا ہ وہ جد وجہد سے کام کرے لیکن جس قدر مرتبہ مجھ سے ممکن ہے یہی کہوں گا یعنی بیشمار دفعہ بھی کہنا پڑے تو یہی کہوں گا کہ ”دنیا کو مقصود بالذات نہ بنالو۔ دین کو مقصود بالذات ٹھہراؤ اور دنیا اس کے لئے بطور خادم اور مرکب کے ہو ۔“ خادم کے طور پر ہو۔ دنیا کی چیزیں مل کر دین کی خادم بنے والی چیزیں بن جائیں۔ یہ اسباب جو ہیں یہ دین سے دور ہٹانے والے