سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 493 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 493

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 461 مومن کے ساتھ تو اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ ان کو غلبہ عطا فرمائے گا لیکن یہاں تو الٹی صورت نظر آرہی ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ مسلمانوں میں آپس میں اتفاق نہیں، اتحاد نہیں۔ پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام جس مقصد کے لئے آئے تھے اس کو پورا کرنے کے لئے ہم نے آپس میں بھی اتفاق اور اتحاد پیدا کرنا ہے اور معاشرے کو بھی اس کی تعلیم دینی ہے۔ وہ نمونہ دکھلاؤ کہ غیروں کے لئے کرامت ہو آپ مزید فرماتے ہیں کہ میں دو ہی مسئلے لے کر آیا ہوں۔ اول خدا کی توحید اختیار کرو۔ دوسرے آپس میں محبت اور ہمدردی ظاہر کرو۔ وہ نمونہ دکھلاؤ کہ غیروں کے لئے کر امت ہو۔“ آپ فرماتے ہیں کہ ” یہی دلیل تھی جو صحابہ میں پیدا ہوئی تھی كُنتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ دو بَيْنَ قُلُوبِكُمْ ( آل عمران : 104) یاد رکھو تالیف ایک اعجاز ہے۔ فرمایا کہ ” یاد رکھو جب تک تم میں ہر ایک ایسا نہ ہو کہ جو اپنے لئے پسند کرتا ہے وہی اپنے بھائی کے لئے پسند کرے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔ وہ مصیبت اور بلا میں ہے۔ اس کا انجام اچھا نہیں۔“ (ملفوظات جلد 2 صفحہ 48 ایڈیشن 1984ء) پس یہ بہت بڑی بات ہے ، بہت بڑی تنبیہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تو یہ فرمایا ہے کہ تم لوگ آپس میں دشمن تھے اور تمہارے درمیان الفت پیدا کرنے کے لئے اُس نے ایک دین قائم کیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے اسلام کی تعلیم بھیجی اور پھر اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ سے اس دشمنی کو ختم کرنے کے لئے تمہیں ایک بنانے کے لئے تعلیم دی۔ اب تمہارا کام ہے کہ اس دشمنی کو کلیۂ مٹادو اور آپس میں محبت اور پیار پیدا کرو۔ پھر آپ فرماتے ہیں کہ یا در کھو بغض کا جدا ہو نا مہدی کی علامت ہے یعنی مہدی کے آنے کی علامت یہ ہے کہ جو اس کی جماعت میں شامل ہوں گے ان کا آپس کا بغض ختم ہو جائے گا تو تم نے جو مہدی کو منظور کیا ہے تو آپس کے جھگڑوں اور کینوں اور بعضوں کو دور کرنا پڑے گا۔ فرمایا کہ ”کیا وہ