سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 492
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 460 جو مناسب فورم ہے وہاں تو جاسکتے ہیں لیکن خود کبھی ایسی باتیں نہ کریں جس سے لڑائی جھگڑے کی صور تحال پیدا ہو اور معاشرے کا امن برباد ہو اور صرف معاشرے کا امن برباد نہیں ہو گا بلکہ ہمارے یہ نمونے دیکھ کر ہمارے بچوں پر بھی منفی اثر پڑے گا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ میں تو جماعت کو باہم اتفاق و محبت سے رہنے کی نصیحت کرنے کے لئے آیا ہوں۔ فرمایا کہ دو ہی مسئلے ہیں میرے جن کو لے کر میں آیا ہوں۔ اول یہ کہ خدا کی توحید اختیار کرو۔ دوسرے آپس میں محبت اور ہمدردی ظاہر کرو۔ وہ نمونہ دکھاؤ جو دوسروں کے لئے ایک کرامت کا نمونہ ہو جائے۔ ایسی نظر ہو ایسا نمونہ ہو جو دوسروں کو مجبور کرے کہ واقعی ان لوگوں کا غیر معمولی حوصلہ اور فعل ہے اور غیر معمولی اخلاق ہیں جس کی وجہ سے یہ آپس میں محبت رکھتے ہیں اور نہ صرف آپس میں محبت رکھتے ہیں بلکہ ہر انسان سے ایک محبت کا تعلق رکھنے والے ہیں۔ آپ نے ایک جگہ فرمایا کہ ” جماعت کے باہم اتفاق و محبت پر میں پہلے بہت دفعہ کہہ چکا ہوں کہ تم باہم اتفاق رکھو اور اجتماع کرو۔ خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہی تعلیم دی تھی کہ تم وجود واحد رکھو ور نہ ہو انکل جائے گی۔ نماز میں ایک دوسرے کے ساتھ جڑ کر کھڑے ہونے کا حکم اسی لئے ہے کہ باہم اتحاد ہو۔ برقی طاقت کی طرح، یعنی بجلی جس طرح تاروں کے ذریعہ سے چلتی ہے اس طرح ایک کی خیر دوسرے میں سرایت کرے گی۔ اگر اختلاف ہو اتحاد نہ ہو تو پھر بے نصیب رہو گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ آپس میں محبت کرو اور ایک دوسرے کے لئے غائبانہ دعا کرو۔ اگر ایک شخص غائبانہ دعا کرے تو فرشتہ کہتا ہے کہ تیرے لئے بھی ایسا ہی ہو ۔ کیسی اعلیٰ درجہ کی بات ہے کہ اگر انسان کی دعا منظور نہ ہو تو فرشتہ کی تو منظور ہوتی ہے۔ میں نصیحت کرتا ہوں “ آپ فرماتے ہیں: ”میں نصیحت کرتا ہوں اور کہنا چاہتا ہوں کہ آپس میں اختلاف نہ ہو ۔ “ ( ملفوظات جلد 2 صفحہ 48 ایڈیشن 1984ء) اور یہ آپس کے اختلافات ہی ہیں جن کی وجہ سے آجکل ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں کی جو حالت ہو رہی ہے کہ دشمن ان پر ہر طرف سے حملہ کر رہا ہے اور بظاہر غالب آ رہا ہے حالانکہ