سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 491
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 459 سے زیادہ نہیں اور پھر اپنا پورا بھروسہ اللہ تعالیٰ پر رکھتے ہیں جیسا کسی میں سعادت کا تخم ہو گا وقت پر سر سبز ہو جائے گا۔ “ (ملفوظات جلد 2 صفحہ 5 ایڈیشن 1984ء) پھر آپ نے یہ بھی فرمایا کہ بچوں کے لئے دعا کرنی چاہیے۔ میں اپنے بچوں کے لئے بہت دعا کرتا ہوں اور یہ تبھی ہو گا جب آپ لوگوں کو ہم سب کو اللہ تعالیٰ سے ایسا تعلق پیدا ہو گا اور دعا پر اتنا یقین ہو گا کہ ہم یہ سمجھیں گے کہ دعا کے بغیر ہمارا گزارہ نہیں اور اپنی پانچ وقت کی نمازوں میں رقت پیدا کرنے کی کوشش کریں گے ، درد پیدا کرنے کی کوشش کریں گے ، بچوں کے لئے خاص دعائیں کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ ہماری نسلیں بھی بچ جائیں اور ہمیشہ دین کے ساتھ جڑی بھی رہیں اور خدا تعالیٰ سے تعلق بھی ان کا پختہ ہو تا چلا جائے۔ نیکی کرنے والوں کے ساتھ نیکی کرو اور بدی کرنے والوں کو معاف کر دو پھر ایک نصیحت آپ نے یہ بھی فرمائی کہ نیکی کرنے والوں کے ساتھ نیکی کرو اور بدی کرنے والوں کو معاف کر دو، معافی کی عادت بھی ڈالو بعض دفعہ دیکھا گیا ہے کہ ہمارے ہاں ذرا ذراسی بات پر جب جھگڑے ہو جاتے ہیں تو پھر انسان معاف نہیں کرتا اس کو دل میں رکھتا ہے اور دل میں رکھ کر پھر وہ بات بڑھاتا چلا جاتا ہے۔ یہ چیز جو ہے یہ ناپسندیدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہے اور اسلام کی تعلیم میں اس کو بہت زیادہ ناپسند کیا گیا ہے اور اس سے منع کیا گیا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ”سنو اور یاد رکھو کہ خدا اس طرز عمل کو پسند نہیں فرماتا تم جو میرے ساتھ تعلق رکھتے ہو اور محض خدا کے لئے رکھتے ہو نیکی کرنے والوں کے ساتھ نیکی کرو اور بدی کرنے والوں کو معاف کرو۔“ (روئداد جلسہ دعا، روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 621) یعنی نیکی کرنے والوں کے ساتھ تو نیکی ہے ہی اگر نہیں کرو گے تو یہ تو بہت بڑی برائی ہے اور بہت بڑا گناہ ہے لیکن فرمایا کہ بدی کرنے والوں کو بھی معاف کر دو کیونکہ یہ بھی ایک نیکی ہے۔ جب ان کو معاف کرو گے تو یہ نیکی ہو گی۔ پس اس لحاظ سے ہمیشہ اپنے دلوں میں وسعت پیدا کریں اور اپنے سے برائی کرنے والوں سے بھی صرف نظر کریں اور جس حد تک ممکن ہو سوائے اس کے کہ کسی بہت بڑے نقصان کا احتمال ہو یا جماعتی نقصان ہو تا ہو تب اس کو سزا دینے کے لئے