سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 490 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 490

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 458 اصلاح کر کے پھر دین سے بھی جڑنے والے ہوں گے کیونکہ ان کو پتہ ہو گا کہ میرا باپ جو کچھ بھی کر رہا ہے وہ دین کی تعلیم کے مطابق کر رہا ہے ۔ پس یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے جو انصار کی عمر کو پہنچ کر پہلے سے زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ بے شک خدام الاحمدیہ کی بھی ذمہ داری ہے۔ ان کے بچے چھوٹے بچے ہوتے ہیں۔ خدام بھی بیویوں کے ساتھ حسن سلوک کریں تاکہ بچپن سے ہی گھروں کا پر سکون ماحول نظر آئے لیکن انصار کی عمر کو پہنچ کر بچے بہت حد تک باشعور ہو جاتے ہیں بلکہ بالغ اس لئے اس عمر کو پہنچ کے تو خاص طور پر اس بات کا اہتمام کرنا چاہیے کہ ہمارے ہو جاتے ہیں اس ۔ گھریلو ماحول نہایت پیار اور محبت والے ہوں اور پر امن رہنے والے ہوں۔ بچوں کے لئے دعا کرنی چاہیے پھر بچوں کی تربیت کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک نسخہ بتایا ہے وہ یہ ہے کہ ان کے لئے دعا کرو اور نرمی کا سلوک کیا کرو اور نرمی اور پیار سے سمجھاؤ گے تو وہ بات سمجھیں گے بھی اور ان کو یہ شکوہ بھی نہیں ہو گا کہ ہمارا باپ سختی کر رہا ہے یا ہمیں غلط باتوں پر بلا وجہ ڈانٹ ڈپٹ ہو رہی ہے۔ ڈانٹ ڈپٹ تو ہوتی ہی غلط باتوں پر ہے، غلط باتوں پر بھی ڈانٹ ڈپٹ اگر ضرورت سے زیادہ ہو جائے تو وہ بھی غلط چیز ہے۔ غلط بات ہی ہے جیسا کہ میں نے کہا اس پر ڈانٹ ڈپٹ ہوتی ہے۔ اچھی باتوں پہ تو کوئی نہیں ڈانٹتا لیکن اس کا بھی اگر صحیح موقع پر نہیں ہو ، صحیح طریقے سے نہ ہو تو بچوں پر برا اثر پڑتا ہے۔ اس لئے ہمیشہ اس بات کی کوشش کرنی چاہیے کہ بلاوجہ کی ڈانٹ ڈپٹ نہ ہو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ” ہدایت اور تربیت حقیقی خدا تعالیٰ کا فعل ہے۔ سخت پیچھا کرنا اور ایک امر پر اصرار کو حد سے گزار دینا یعنی بات بات پر بچوں کو روکنا اور ٹوکنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ گویا ہم ہی ہدایت کے مالک ہیں اور ہم اس کو اپنی مرضی کے مطابق ایک راہ پر لے آئیں گے۔ یہ ایک قسم کا شرک خفی ہے۔ اس سے ہماری جماعت کو پر ہیز کرنا چاہیے۔“ ۔ آپ فرماتے ہیں ”اس سے ہماری جماعت کو پر ہیز کرنا چاہیے ۔ فرمایا ”ہم تو اپنے بچوں کے لئے دعا کرتے ہیں اور سرسری طور پر قواعد اور آداب تعلیم کی پابندی کراتے ہیں۔ بس اس