سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 489 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 489

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 457 ایک ایسی ہے جو پوری بلوغت کی عمر ہے اور یہی عمر ایسی ہے جہاں بعض دفعہ انسان اپنے جذبات بھی قابو میں نہیں رکھتا جس کو خیال ہوتا ہے کہ میری عمر ایسی آگئی ہے کہ میر اعزت اور احترام بھی زیادہ ہونا چاہیے۔ اگر بیوی کی طرف سے کوئی ایسی بات ہو جائے جو مزاج کے خلاف ہو تو بہت سارے معاملات ایسے آتے ہیں جہاں پتہ لگتا ہے کہ خاوند پھر بہت زیادہ سختی بیویوں پر شروع کر دیتے ہیں یا بیویوں کے جو قریبی رشتے ہیں ان کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں کہ جو پھر بیوی کو نامناسب لگتا ہے اور اس کی طبیعت پر اس کا منفی اثر ہوتا ہے جس کی وجہ سے پھر ایک بے چینی اور بدمزگی گھر میں پیدا ہو جاتی ہے اور اس کا نتیجہ پھر یہ نکلتا ہے کہ بچوں پر بھی برا اثر پڑتا ہے بچوں کی تربیت پر برا اثر پڑتا ہے۔ بچے بعض دفعہ دیکھ لیتے ہیں کہ باپ کے نامناسب رویے کی وجہ سے ہماری ماں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے یا باپ ہماری ماں کے جذبات کا صحیح احترام نہیں کرتا اور خیال نہیں رکھتا یا ہمارا باپ اپنے رشتے داروں سے حسن سلوک نہیں کرتا۔ چاہے وہ رحمی رشتہ دار ہوں یا سسرالی رشتہ دار ہوں۔ پھر اس کا اثر بچوں پر پڑتا ہے اور وہ بھی پھر گھر کے ماحول سے بیزار ہوتے ہیں اور باہر جا کر سکون تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور جب وہ باہر جاتے ہیں تو باہر کے ماحول میں پھر جیسا بھی ماحول میسر ہے ان کو مل جاتا ہے جس کی وجہ سے پھر برائیاں پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہیں اور بہت سارے بچے اسی لئے بگڑتے ہیں کہ وہ گھروں کے ماحول سے بیزار ہوتے ہیں یا گھروں کے ماحول میں ان کو تسلی نہیں ملتی۔ گھروں کے ماحول میں ان کو بے چینی مل رہی ہوتی ہے۔ پس اس لحاظ سے یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ مرد اپنی نسلوں کی اصلاح کے لئے ، اپنی نسلوں کو بچانے کے لئے، اپنی نسلوں میں دین کی محبت پیدا کرنے کے لئے ، اپنی نسلوں کو خداتعالیٰ سے جوڑنے کے لئے ، اپنی نسلوں میں جماعتی احترام اور تعلق پیدا کرنے کے لئے ایسے نمونے قائم کریں جو ایک مثال ہوں۔ ان کے گھروں میں ایک سکون ہو ۔ یہ گھروں کا سکون جو ہے جب یہ حاصل ہو جائے گا تو پھر ہر طرف ایک امن اور سکون کی فضا انہیں نظر آئے گی۔ اور بچے پھر اس ماحول میں گھروں میں رہ کر اپنے ماں باپ سے زیادہ تعلق پیدا کرنے والے ہوں گے اور اپنی