سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 488 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 488

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 456 بھی حق ادا کرنے والے نہیں ہوں گے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مختلف جگہوں پر ہمیں نصائح فرمائی ہیں۔ چھوٹی سے چھوٹی بات سے لے کر بڑی باتوں تک ہر قسم کی نصیحتیں فرمائیں۔ اپنے گھروں کے ماحول کو ایسا بناؤ جہاں محبت اور پیار نمایاں ہو اس وقت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعض باتیں آپ کے سامنے پیش کروں گا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہم سے کیا چاہتے ہیں۔ پہلی بات تو یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں یہ نصیحت فرمائی کہ اپنے گھروں کے ماحول کو ایسا بناؤ جہاں محبت اور پیار نمایاں ہو کیونکہ گھر معاشرے کی وہ چھوٹی اکائی ہے جس میں اگر امن اور سلامتی ہو ، پیار اور محبت ہو تو پھر وہی پیغام باہر لوگوں کو بھی پہنچتا ہے ، وہی پیغام سارے گھر کے افراد کو بھی پہنچتا ہے اور وہ پھر آگے اس کو پہنچانے والے ہوتے ہیں۔ عورتوں سے حسن معاشرت کے طور پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بڑی نصیحت فرمائی ہے اور ایک دفعہ لوگوں کو نصیحت کرتے ہوئے بڑے درد سے فرمایا کہ لوگ تو بلا وجہ عورتوں کو اپنی دشنام طرازی کا نشانہ بنا لیتے ہیں ان کو برابھلا کہہ دیتے ہیں ان سے لڑائی جھگڑا بھی کر لیتے ہیں لیکن ایک موقع پر آپ اپنا حال بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ”میرا یہ حال ہے کہ ایک دفعہ میں نے اپنی بیوی پر آوازہ کسا تھا اور میں محسوس کرتا تھا کہ وہ بانگ بلند یعنی اونچی آواز جو ہے دل کے رنج سے ملی ہوئی ہے۔ اس میں غصہ شامل ہے اور ”بایں ہمہ کوئی دل آزار اور درشت کلمہ منہ سے نہیں نکالا تھا۔ اس کے علاوہ کوئی ایسی بات نہیں کی تھی جو سخت ہو صرف آواز اونچی تھی لیکن اس کے بعد فرماتے ہیں ” میں بہت دیر تک استغفار کرتا رہا اور بڑے خشوع اور خضوع سے نفلیں پڑھیں اور کچھ صدقہ بھی دیا کہ یہ درشتی زوجہ پر کسی پنہانی معصیت الہی کا نتیجہ ہے۔“ (ملفوظات جلد 2 صفحہ 2 ایڈیشن 1984ء) شاید کوئی میر ا چھپا ہوا ایسا گناہ ہے جس کی وجہ سے ایسے سخت الفاظ یا اونچی آواز میرے منہ سے نکل گئی۔ پس یہ وہ معیار ہے جو ہمیں اپنے گھروں میں قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ چالیس سال کی عمر میں آپ انصار میں شامل ہو جاتے ہیں اور یہ عمر