سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 487
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 455 فرمایا: انصار اللہ کی ذمہ داریاں تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ”آج ہمارے ساتھ اس اجتماع میں بیلجیم کے انصار بھی شامل ہیں جن کا اجتماع ہو رہا ہے اور شاید ایک آدھ جگہ اور بھی ہو رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو توفیق دے کہ اس اجتماع سے بھر پور فائدہ اٹھانے والے ہوں۔ انصار اللہ کی ذمہ داری ہے کہ باقی افراد جماعت کے لئے نمونہ بنیں ہم جس معاشرے میں رہ رہے ہیں جہاں ترقی کے نام پر ہر قسم کی آزادی اور بے جا آزادی کو رواج دیا جارہا ہے ، آزادی کے نام پر لغو قسم کی حرکات کو بھی جائز قرار دیا جا رہا ہے ایسے میں انصار اللہ کی ذمہ داریاں پہلے سے بہت بڑھ جاتی ہیں کیونکہ انصار اللہ وہ تنظیم ہے، جماعت کا وہ حصہ ہے جو اپنی بلوغت کی عمر کو پہنچ چکا ہے اور اس لحاظ سے اس کی ذمہ داری ہے کہ باقی افراد جماعت کے لئے نمونہ بنیں۔ پس اس بات کو سمجھتے ہوئے ان باتوں کو اپنانے ، ان پر عمل کرنے اور اسے پھیلانے کی کوشش کریں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہم سے چاہتے ہیں اور جس کے پورا کرنے کے لئے ہم نے آپ کی بیعت کی ہے۔ ہم نے اپنے گھروں کے ماحول کو بھی ایسا بنانا ہے جہاں یہ پاک نمونے قائم ہوں۔ اپنے بیوی بچوں کے سامنے بھی ایسے نمونے قائم کرنے ہیں جو ان کے لئے ایک نمونہ ہوں اور اپنے معاشرے اور ماحول میں بھی وہ نمونے قائم کرنے ہیں جو معاشرے کی بھلائی اور بہتری کے لئے ایک راستہ دکھانے والے ہوں۔ پس اس لحاظ سے ہماری بہت بڑی ذمہ داری ہے جس کو سمجھنا چاہیے اور اس کے لئے ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ پر بیعت کی ہے۔ پس اگر ہم نے اپنے نمونے نہ دکھائے ، اس عمر کو پہنچ کر جو ہماری انتہائی بلوغت کی عمر ہے اپنے وہ نمونے قائم نہ کیے جو دوسروں کے لئے مثال ہوں تو پھر ہم اپنی بیعت کا