سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 485 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 485

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 453 ہمارے نمونے ہی ہیں جو معاشرے میں تبدیلیاں لانے والے ہوں گے پیارے ممبران مجلس انصار اللہ بھارت السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ مجھے یہ جان کر بہت خوشی ہوئی ہے کہ مجلس انصار اللہ بھارت کو اپنا سالانہ اجتماع منعقد کرنے کی توفیق مل رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے ہر لحاظ سے بابرکت فرمائے اور نیک نتائج سے نوازے۔ آمین مجھ سے اس موقع پر پیغام بھجوانے کی درخواست کی گئی ہے۔ میں اس موقع پر آپ کو چند ضروری نصائح کرنا چاہتا ہوں۔ انصار اللہ کی عمر میں انسان اپنی چستی کی عمر کو پہنچ جاتا ہے۔ اس پختہ عمر میں خاص طور پر یہ سوچ اپنے اندر بہت زیادہ پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ اس کا خلافت سے مضبوط تعلق ہو اور اپنی اولاد کی تربیت پر خاص توجہ ہو جس کا بہترین طریق انہیں اپنا نیک نمونہ پیش کرنا ہے۔ یاد رکھیں کہ ہمارے نمونے ہی ہیں جو نو جوانوں کے لئے بھی صحیح سمت متعین کرنے والے ہوں گے۔ ہمارے نمونے ہی ہیں جو ہمارے بچوں کے لئے بھی رہ نما ہوں گے ۔ ہمارے نمونے ہی ہیں دو جو معاشرے میں تبدیلیاں لانے والے ہوں گے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : تم لوگ سچے دل سے توبہ کرو تہجد میں اٹھو۔ دعا کرو، دل کو درست کرو۔ کمزوریوں کو چھوڑ دو۔ اور خدا تعالیٰ کی رضا کے مطابق اپنے قول و فعل کو بناؤ یقین رکھو کہ جو اس نصیحت کو ورد بنائے گا اور عملی طور سے دعا کرے گا اور عملی طور پر التجا خدا کے سامنے لائیگا۔ اللہ تعالیٰ اس پر فضل کرے گا۔ اور اس کے دل میں تبدیلی ہو گی۔ “ ( ملفوظات جلد اول صفحہ 45) در حقیقت جب ایک مومن اپنے اندر پاک تبدیلی پیدا کرتا ہے تو اس کی اولاد پر بھی اس کا نیک اثر ہوتا ہے۔ اس کے مرنے کے بعد اس کی نیک اولاد ان نیکیوں کو جاری رکھتی ہے جس پر ایک مومن قائم تھا۔ اپنے ماں باپ کے لئے نیک اولا د دعائیں کرتی ہے جو اس کے درجات کی بلندی کا باعث بنتے ہیں۔ دوسری نیکیاں کرتی ہے جو ان کی درجات کی بلندی کا باعث بنتی ہیں۔ پس اولاد کو بھی