سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 483 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 483

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 451 حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے تعلق میں بھی بڑھیں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے خطبات کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ اس لئے بتاتا ہوں کہ آپ لوگوں کو تاریخ اسلام کا بھی پتا لگے۔ جو واقعات ہو رہے ہیں ان کا بھی پتا لگے۔ جو واقعات ماضی میں ہوئے ان کا بھی پتا لگے۔ جس طرح صحابہ نے قربانیاں کیں ان کا بھی پتا لگے۔ انہی خطبات میں بعض نصائح آ جاتی ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ کی لوگوں سے وابستہ توقعات آجاتی ہیں۔ لوگوں کے اپنے عمل آ جاتے ہیں۔ ان کا سب کو پتا لگے۔ پتا لگے کہ ہمارے بزرگوں نے کتنی قربانیاں کی تھیں اور کس طرح قربانیاں کر کے اسلام کو سنبھالا اور سینچا اور اب اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے جو ہمیں سہولتیں دے دی ہیں ، اس کے بعد ہماری ذمہ داری کتنی ہے کہ ہم اس کو کس طرح سنبھالیں اور سینچیں۔ اپنے ایمانوں کو مضبوط بھی رکھیں اور اپنی نسلوں کے ایمانوں کو بھی مضبوط رکھیں اور اس سے سبق حاصل کرتے ہوئے آگے اسلام کی تبلیغ اور پیغام کو بھی پہنچاتے رہیں۔ اور حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے تعلق میں بھی بڑھیں۔ اس طرح بہت ساری نصیحتیں انہی میں آجاتی ہیں۔ اول تو میں نے پہلے سولہ سترہ سال تربیت پر بے شمار خطبے دیئے ہیں، ان تربیتی خطبات کو دیکھیں تو آپ کو تربیت سے متعلق باتیں پتا لگ جائیں گی۔ پھر تاریخ پر میں نے خطبات کا سلسلہ اس لئے شروع کیا کہ پتا لگے کہ تربیت کی صرف رض باتیں نہیں ہیں ، بلکہ تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ یہ صحابہ نے کام کر کے دکھائے۔ یہ کوئی ایسی باتیں نہیں تھیں کہ صرف اللہ تعالیٰ نے حکم دے دیا بلکہ ان میں تبدیلی پیدا کی۔ اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آکے جاہل اور اُجڈ لوگوں کی، جو بالکل ان پڑھ تھے ، ہم تو پھر اپنے آپ کو بڑے پڑھے لکھے کہتے ہیں، اور گاؤں کے لوگوں کی تربیت کی اور ان کو انسان بنایا۔ پھر انسان سے تعلیم یافتہ انسان