سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 482 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 482

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 450 اللہ تعالیٰ نے اس لئے قرآن شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا کہ آپ تبلیغ کریں جو تعلیم آپ کو نازل کی گئی ، ہدایت دینا اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اس کے لئے دعا کرتے رہیں۔ فطرت نیک ہو گی تو قبول کرلے گا۔ ہم نے اپنا کام نہیں چھوڑنا۔ ہمارا کام یہی ہے کہ بلاتے چلے جانا۔ آدم کو اللہ تعالیٰ نے یہی کہا تھا کہ تم نے اپنا کام نیکیوں کی تلقین کرتے رہنا ہے۔ شیطان کو کہا ٹھیک ہے کہ میں تمہیں تمہارے کام کی اجازت دیتا ہوں کہ تم برائیوں کی طرف بلاتے رہو۔ دونوں کو کھلی چھٹی دے دی۔ یہ کہیں نہیں کہا کہ میں شیطان باندھ دوں گا۔ ہاں رمضان کے دنوں میں شیطان ان لوگوں کے لئے باندھا جاتا ہے جو مومن ہوتے کے لئے باندھا جاتا ہے جومو ہیں۔ کیونکہ نفس امارہ جو ہے وہ بعض دفعہ بگڑ جاتا ہے ، اس لئے نفس لوامہ کی صورت پیدا ہوتی ہے اور اس میں پھر رمضان میں ملامت بھی زیادہ ہوتی ہے۔ اور اگر نیت نیک ہو تو پھر شیطان کو باندھ کر اللہ تعالیٰ نیکیاں کرنے کی توفیق دیتا ہے۔ اگر نیت نیک نہیں ہے تو بہت سارے کلمہ پڑھنے والے بھی ہیں، جن کے شیطان کھلے رہتے ہیں۔ رمضان میں ساروں کے شیطان تو نہیں بند ہو جاتے۔ یہ تو پھر نیت اور ارادے پر منحصر ہے ، ارادہ اور نیت ہو گی تو ٹھیک، ارادہ اور نیت نہیں ہو گی تو پھر ختم۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے قرآنی تعلیم کی روشنی میں اس بات کا اعادہ فرمایا کہ آپ کا اور ہمارا کام تبلیغ کرنا ہے ۔ بَلِغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ (المائدة:68) تبلیغ کرو جو اُتارا گیا ہے تم پر۔ ہدایت دینا اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ ایک ناصر نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے دریافت کیا کہ آپ کے خطبات اور خطابات سے مؤثر انداز میں کس طرح سے استفادہ کیا جا سکتا ہے ؟ اس کے جواب میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے استفہامیہ انداز میں استفسار فرمایا کہ کیا آپ ان سے کوئی سبق حاصل کرتے ہیں؟ کیا آپ نے کبھی کچھ سیکھا ہے ؟ کیا آپ نے کبھی یہ محسوس کیا کہ آپ ان سے فائدہ اُٹھارہے ہیں ؟ یہی تو اصل اہمیت ہے۔ اس سے زیادہ میں آپ کو اور کیا بتا سکتا ہوں ؟