سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 481 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 481

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 449 کر آؤ۔ پھر اس شیطان نے یہ چیلنج دیا کہ لوگوں کی اکثریت مجھے follow کرے گی، آدم یا نیک باتوں کو follow نہیں کرے گی۔ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں کہا تھا کہ نہیں کرے گی بلکہ کہا تھا کہ ٹھیک ہے ایسا کریں گے تو تمہیں بھی اور تمہارے ساتھیوں کو بھی میں پھر ضرور جہنم سے بھر دوں گا۔ یہی قرآن کریم میں سارے واقعات لکھے ہیں۔ تو اس کا مطلب ہے کہ جو بد لوگ ہیں، شیطان کے پیچھے چلنے والے لوگ ہیں، نہ ماننے والے لوگ ہیں ، وہ زیادہ ہوں گے۔ زیادہ رہیں گے یا اتنی تعداد میں رہیں گے کہ لوگوں کو متاثر کر سکیں۔ ہاں ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ جب نیک فطرت لوگ ایک علاقے میں، ایک جگہ میں زیادہ ہو جاتے ہیں تو ان پر اللہ تعالیٰ فضل بھی فرماتا رہتا ہے۔ لیکن یہ کہنا درست نہیں کہ ساری دنیا میں ایک ہی طرح ہر جگہ ہو جائے گا کہ صرف نیک ہی نیک لوگ ہوں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جہاں بے شک فرمایا ہے کہ ایک وقت آئے گا کہ اکثریت قبول کرلے گی۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ بہت سارے علاقوں میں بہت بڑی اکثریت قبول کرلے گی۔ یہ نہیں فرمایا کہ ساری دنیا مجھے قبول کرلے گی۔ اسلام کا یہ دعویٰ ہی نہیں، اگر یہ دعویٰ ہو تا تو کافروں کے متعلق قرآن کریم میں حکم کیوں ہوتے ، اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ پر چلنے کا حکم کیوں ہوتا؟ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ جو کہا گیا، وہ کہنے کی ضرورت کیا تھی؟ جب مغضوب علیہ اور گمراہ لوگ ضالین جو ہیں وہ بھی نہ ہوتے تو لوگوں کو پھر پتا کس طرح لگتا؟ اس کا مطلب ہے کہ ہمیشہ ہر وقت یہ لوگ رہیں گے۔ لیکن ہمارا کام تبلیغ کرتے رہنا ہے اور اگر کوئی تبلیغ میں دلچسپی لیتا ہے تو الحمد للہ اور اگر آپ کا کوئی بہت خاص دوست ہے تو اس کو سمجھائیں کہ دیکھو ! میں تمہیں یہ بات اس لئے کہہ رہا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو تم اپنے لئے پسند کرتے ہو، وہ دوسرے کے لئے پسند کرو، تو مجھے یہ چیز پسند ہے اور میں اس کو صحیح سمجھتا ہوں۔ اس لئے میں تمہاری بہتری کے لئے تمہیں بتا رہا ہوں۔ مانو نہ مانو ، تمہارا فعل ہے، یہ چیز آپ بتا دیں۔ اگر وہ مان لے گا تو الحمد اللہ ! نہیں تو کوئی دوسرا لے لیں۔ بعض اڑے ہوتے ہیں، ان پر ہی آپ وقت ضائع کرتے جائیں کہ نہیں میں نے منوا کے ہی چھوڑنا ہے ، نہیں منوا سکتے۔