سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 480 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 480

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 448 کو نبیوں کی طرح ہر بات کا الہام ہونا شروع ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ہر ایک کے لئے اس کے معیار کے مطابق مختلف ذرائع ہوتے ہیں۔ تو اس لئے عرفانِ الہی کو حاصل کرنے کے لئے مسلسل عبادت اور علم حاصل کرتے چلے جانا اور اس کے حل نکالتے چلے جانا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا فضل ما نگتے چلے جانا، یہ اصل چیز ہے۔ یہ کہنا کہ مجھے عرفانِ الہی حاصل ہو گیا اور بس میں بڑا بزرگ ہو گیا، یہ بات ہو گی تو سمجھو وہ ختم ہو گیا، وہ پانی میں اس پیر کی طرح ڈوب گیا۔ جس کی فطرت نیک ہے وہ آئے گا انجام کار اس کے بعد ایک ناصر نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں عرض کیا کہ جب یورپی لوگوں کو تبلیغ کی جاتی ہے تو وہ اکثر کم دلچسپی ظاہر کرتے ہیں، ایک یا دو بار تو سنتے ہیں لیکن پھر لا پر وا ہو جاتے ہیں۔ اس سلسلے میں کیا کرنا چاہیے ؟ اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جواب دیا کہ ہمارا کام تبلیغ کرنا ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا کہ تم تبلیغ کرو، ہدایت دینا اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ ہم اپنے کام کیے جائیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ ہر طرف آواز دینا ہے ہمارا کام آج جس کی فطرت نیک ہے وہ آئے گا انجام کار نیک فطرت لوگ آتے ہیں، ہر ایک تو مانتا بھی نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آدم کو پیدا کیا تو کہا تھا کہ نیک باتیں بتاؤ۔ شیطان نے سجدہ کرنے یا بات ماننے یا آدم کی فرمانبرداری کرنے سے انکار کیا تھا تو ساتھ ہی شیطان نے یہ بھی اللہ تعالیٰ کو کہہ دیا تھا کہ تو مجھے مہلت دے، تو کہتا ہے کہ میں آدم کی اطاعت کروں ، مجھے اجازت دے کہ میں اپنی طرف بھی لوگوں کولے کے آؤں۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں کہا تھا کہ میں نے آدم کو پیدا کر دیا، اب سارے آدم کے پاس ہی جائیں گے اور تمہاری طرف کوئی نہیں آئے گا۔ اللہ میاں نے کہا کہ تمہیں اجازت ہے کہ ٹھیک ہے تم لوگوں کو بھٹکاؤ، اپنی طرف لے