سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 479
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 447 اس شخص نے مثال دی کہ اگر ایک شخص کشتی پر بیٹھا جا رہا ہو اور وہاں آگے خشک زمین آ جائے یا جزیرہ آ جائے یا ایک جگہ آ جائے جہاں اسے اُترنا ہے، تو وہاں اس جزیرے پر وہ نہ اُترے، تو اسے آپ بے وقوف نہیں کہیں گے ؟ جہاں پہنچنا تھا اسے ، وہ وہاں پہنچ گیا؟ تو حضرت مصلح موعودؓ نے اسے کہا کہ تم جسے خشک زمین سمجھے ہو ، اگر وہ تمہاری نظر کا دھوکا ہو اور تم وہاں کشتی سے اُترو اور تمہارا اگلا پاؤں پڑے اور ایک دم گہرا پانی آ جائے تو وہیں تم ڈوب جاؤ گے۔ عقلمندی تو یہ ہے کہ تم چلتے رہو ، جب تک تم دیکھتے نہ : دیکھتے نہ ہو کہ بالکل وسیع پیمانے پر خشکی آگئی۔ اللہ تعالیٰ سے جب تعلق پیدا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ دل کو تسلی بھی دے دیتا ہے اللہ تعالیٰ کی قدرت اور عرفان تو لا محدود ہے ، تم ایک جگہ اُتر کر کہہ دو کہ میں نے حاصل کر لیا، تو وہ نہیں ہو سکتا۔ اس کو حاصل کرنے کے لئے مسلسل کوشش کرتے رہو۔ دعا کرتے رہو ۔ اس کے لئے اللہ تعالیٰ سے ایک تعلق پیدا کرو اور اللہ تعالیٰ سے جب تعلق پیدا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ دل کو تسلی بھی دے دیتا ہے۔ خود انسان کو تسلی ہو جاتی ہے۔ انسان کی دعاؤں کا جواب مل جاتا ہے اور اس سے اثر پیدا ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی بعض باتیں انسان کی سمجھ میں نہیں آتیں، اس کے سمجھانے کے طریقے اللہ تعالیٰ بتا دیتا ہے، قرآن کریم کی آیات سے عرفان حاصل ہو جاتا ہے۔ یہ نہیں کہ آپ کو عرفان کا الہام ہو گا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کوئی کتاب پڑھ رہے ہیں ، وہاں سے آپ کو ایک نکتہ مل جائے گا کہ ہاں ! اس کا یہ جواب مل گیا۔ خلفاء کی کتب پڑھ رہے ہیں، خطبات سن رہے ہیں ، وہاں سے آپ کو جواب مل جائے گا۔ کسی بزرگ کی بات سن رہے ہیں، پرانے علماء ، صحابہ کی باتیں سن رہے ہیں، وہاں سے آپ کو جواب کو جواب مل جاتے ہیں۔ احادیث سے آپ کو جواب مل جاتے ہیں۔ تو ان چیزوں سے آپ کو پتا لگے گا کہ ہاں، یہ عرفان مجھے حاصل ہو رہا ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی تائید ہے، جو میرے لئے ، ان ان باتوں کے سمجھنے کے ذریعے نکال رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ تو ذرائع پیدا کرتا ہے، یہ تو نہیں کہ الہام کر کے ہر ایک کو ولی اللہ بنادے، آپ