سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 478
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 446 ہے ، وہ نکال کے بھیج دیا۔ خلفاء کے فرمودات ہیں، کوئی نہ کوئی quote نکال کے بھیج دیا۔ ہر ہفتے اس طرح اگر آپ با قاعدگی سے ایک میسج بھیجتے رہیں، نیا نیا میسج آتا رہے، تو سال کے باون ہفتوں میں قرآن، حدیث، حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفاء کے ارشادات پر مبنی باون میسیج چلے جائیں گے۔ وہ جب چلے جائیں گے تو کسی نہ کسی پر تو اس کا اثر ہو گا۔ ہمیں تو اللہ تعالیٰ کا یہی حکم ہے ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ذکر کا حکم ہوا، انما انْتَ مُذَكِّر (الغاشیہ : 22) کہ تم تو نصیحت کرنے والے ہو ، نصیحت کرتے چلے جاؤ۔ کشت عَلَيْهِمْ بِمُصَيْطِرِ (الغاشیہ : 23)، تم ان پر داروغہ نہیں بنائے گئے۔ آپ داروغہ نہیں ہیں، ڈنڈے کے زور سے آپ کہہ دیں کہ میں کسی کو قائل کر لوں گا۔ ہاں ! پیار سے، محبت سے سمجھائیں، اپنی مثالیں قائم کریں، ان کے لئے دعا کریں تو ٹھیک ہو جائے گا۔ نائب صدر صاحب نے راہنمائی طلب کی کہ عرفانِ الہی کس طرح حاصل ہو سکتا ہے اور ہمیں کیسے پتا لگے گا کہ واقعی عرفانِ الہی حاصل ہوا ہے کہ نہیں ؟ اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے توجہ دلائی کہ ہر چیز اللہ تعالیٰ بتادے تو آپ وہیں رک جائیں گے۔ وہیں آپ بریک لگا دیں گے کہ ہمیں عرفانِ الہی حاصل ہو گیا، ہم بزرگ بن گئے۔ حضرت خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے ایک واقعہ بیان کیا کہ ایک بندہ ان کے پاس آیا۔ وہ اپنے آپ کو بڑا پیر سمجھتا تھا کہ میں عرفانِ الہی کے بڑے اعلیٰ معیار تک پہنچا ہوا ہوں، نمازیں وغیرہ بھی اس نے پڑھنی چھوڑ دیں، اس لئے کہ میں اللہ کے قریب پہنچ گیا ہوں، مجھے اب کسی چیز کی کیا ضرورت ہے ؟ تو حضرت مصلح موعود کہتے ہیں کہ میں نے اسے سمجھایا کہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور دعا کرتے رہو۔ عرفان حاصل کرنے کے لئے اس کا علم ، اس کی طاقتیں اور اس کی معرفت لا محدود ہیں۔ جب وہ لا محدود ہیں تو تم کیسے کہہ سکتے ہو کہ میں نے یہاں پہنچ کے وہ سب کچھ حاصل کر لیا ہے۔