سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 476 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 476

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 444 عہدیداروں کو یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ ہم عہدیدار ہیں ، بطور افسر ہم نے بات کر دی ہے تو اگلے نے ماننی ہے، یا کسی نے اختلافِ رائے کیا تو اس کا ہم نے برا منا لینا ہے۔ ابھی پچھلے دنوں میں نے خطبے میں بھی ذکر کیا تھا، پرسوں ہی کیا تھا، کہ اختلافِ رائے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ یہ ایک اچھی بات ہے۔ یہ ترقی کی علامت ہے۔ اختلافِ رائے ہونا چاہیے لیکن اختلافِ رائے کو ذاتی انا والی بات نہیں بنالینا چاہیے۔ اگر سمجھ آجائے تو اس کے لئے اصلاح کی کوشش کرنی ہے۔ تو جس سے اختلاف ہے اس کو بھی چاہیے ، افسران کو ، صدر صاحب کو بھی، باقیوں کو بھی، قائدین کو بھی، ناظمین کو بھی، زعماء کو بھی کہ لوگوں کو پیار سے سمجھائیں۔ اختلافِ رائے ہے تو ان کو دلیل سے قائل کرنے کی کوشش کریں، اگر ان کی دلیل اچھی ہے ، تو بغیر کسی انا کو سامنے رکھے اس کو مان لیں۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مسائل کے حل کے لئے باہمی گفت و شنید اور مل بیٹھنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے توجہ دلائی کہ یہ چیزیں تو آپس میں مل بیٹھ کر حل کرنے سے پیدا ہوتی ہیں۔ اگر مل بیٹھ کے آپ نے حل نہیں نکالنا تو پھر ڈکٹیٹر شپ تو یہاں ہے کوئی نہیں۔ پھر دوسرا کہے گا کہ تم کون اور میں کون ؟ اگر کسی نے بیعت کی ہوئی ہے تو وہ کہے گا کہ میں نے تمہاری بیعت نہیں کی ، میں نے تو مسیح موعود کو مانا ہے، میں نے خلیفہ سے بیعت کی ہوئی ہے، تم کون ہو؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ آپ کو بتانا پڑے گا کہ ہم اس نظام کا حصہ ہیں، ہم تمہارے بھائی ہیں، ہم تمہارے ہمدرد ہیں اور ہمیں نظام ، خلافت کی طرف سے ہی ملا ہوا ہے، جس کی ہم پابندی کروانا چاہتے ہیں ، ہم اپنی طرف سے کچھ نہیں کہہ رہے اور ہمارا مقصد ہے تو یہ ہے کہ جو جماعتی پلان ہے ، خلیفہ وقت کا منصوبہ ہے، جو خلیفہ وقت کی ہدایات ہیں، جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہم سے چاہتے ہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جس کی ہمیں تعلیم دی ہے، جس کی اللہ تعالیٰ نے تعلیم قرآن کریم کے ذریعہ سے ہمیں بھیجی ہے، ہم اس پر عمل کرنے والے بنیں۔ آپ انصار میں یہ روح پیدا کر دیں تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔ جہاں افسر بن کے رہیں گے وہاں سب کچھ خراب ہو جائے گا۔