سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 474
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 442 پہنچ کر آپ پہلے ہی جاگ رہے ہوتے ہیں۔ رہے ہوتے ہیں۔ اور جو سوئے ہوئے ہیں ان کو جگائیں ، ان کو پیار سے اور اپنی مثالیں قائم کر کے بتائیں کہ دین کیا ہے۔ پہلے دوسروں کو دیکھنے کی بجائے اپنے نمونے قائم کر لیں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے نمونے قائم کرنے اور ذاتی اصلاح کی بابت مزید توجہ دلائی کہ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اگر آپ کی نیشنل عاملہ اور مقامی مجالس کے عاملہ ممبر ان مل کر اپنی اصلاح کر لیں اور اس طرف توجہ دیں کہ ہم نے دین سیکھنا ہے اور اس کے لئے ہمیں کتابیں بھی پڑھنی چاہئیں، قرآن کریم بھی پڑھنا چاہیے ، اللہ تعالیٰ سے مدد بھی مانگنی چاہیے ، تو تبدیلی پید ا ہو جائے گی۔ آپ کے پچاس فیصد لوگ تو اسی طرح cover ہو جائیں گے۔ اگر عاملہ کے ممبران، نائبین یا جو کسی بھی رنگ میں خدمت کر رہے ہیں ان کو یہ توجہ پیدا ہو جائے، پہلے دوسروں کو دیکھنے کی بجائے اپنے نمونے قائم کر لیں۔ نیشنل عاملہ اپنا نمونہ قائم کرے، مقامی عاملہ اپنے نمونے قائم کرے ، زعماء اپنے نمونے قائم کریں، تو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ اس لئے آپ لوگوں کے پیچھے نہ جایا کریں، جن کے پاس کچھ نہیں، پہلے اپنی اصلاح دیکھیں۔ اپنی عاملہ کے ممبر ان کتنے ہیں جو اس پر عمل کرتے ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں استثناء حاصل ہو گیا، ہمارا دین کا علم بہت ہو گیا۔ انصار ہونے کے باوجود مجھے پتا ہے کہ بہت سارے ایسے ہیں جو کہ پانچ نمازیں پوری نہیں پڑھتے ، جو باقاعدہ قرآن کریم نہیں پڑھتے ، تلاوت نہیں کرتے، جو روزانہ ایک آدھ پیرا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کسی کتاب کا نہیں پڑھتے۔ تو جب خود ہم عمل نہیں کرتے تو دوسروں کو کیا کہیں گے ؟ قرآن کریم تو کہتا ہے کہ جو تم خود نہیں کرتے وہ دوسروں کو نہ کہو یم تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُونَ (الصف: 3) ، وہ بات دوسروں کو کیوں کہتے ہو جو تم خود نہیں کر رہے؟ مزید بر آن حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے تمام شاملین مجلس کی جانب اپنے دست مبارک سے اشارہ کرتے ہوئے توجہ دلائی کہ یہ جو سارے یہاں بیٹھے ہوئے ہیں ان کی اصلاح کر لیں تو باقیوں کی اصلاح ہو جائے گی اور قرآن کریم کا جو حکم ہے کہ تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ