سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 473
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 441 دین تو مقدم اسی وقت ہو سکتا ہے جب پتا ہو کہ دین ہے کیا؟ اس کے بعد قائد تعلیم نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں عرض کیا کہ انصار اللہ کے لئے جو لٹریچر مقرر کیا جاتا ہے، اس میں کوئی مخصوص کتاب شامل ہوتی ہے اور اس کا ایک پرچہ بھی ہوتا ہے، جسے حل کروانا مقصود ہوتا ہے۔ لیکن دوست اس کی جانب کوئی خاص توجہ نہیں دیتے اور نہ ہی مقررہ کتاب یا عمومی جماعتی لٹریچر کو پڑھنے میں دلچسپی لیتے ہیں۔ اس سلسلے میں راہنمائی فرمائیں کہ ہم ان میں جماعتی لٹریچر کے مطالعے کا شوق کیسے پیدا کر سکتے ہیں ؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس پر ہدایت فرمائی کہ اگر دلچسپی نہیں لیتے تو پہلے ان میں دلچسپی پیدا کریں۔ شعبہ تربیت پہلے ان میں روح پیدا کرے کہ بیلجئم میں آگئے ، مغربی ممالک میں آگئے تو دنیا کمانا مقصد نہ بناؤ۔ دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا عہد کرتے ہو تو دین تو مقدم اسی وقت ہو سکتا ہے جب پتا ہو کہ دین ہے کیا؟ اور دین کا پتا کرنے کے لئے کہ کیا ہے، اس کے لئے جہاں یہ ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کر کے، نمازیں پڑھ کے ، اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے ہوئے کہ ہمیں دین سکھائے، وہاں دین کی تعلیم حاصل کرنا بھی ضروری ہے اور قرآن کریم اس کے لئے بنیادی چیز ہے۔ اس لئے قرآن کریم اور اس کا ترجمہ پڑھنا ضروری ہے۔ پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب ہیں جو اس کی تشریح ہیں۔ تو لوگوں کو تربیت کا شعبہ بتائے اور آپ بھی جب ان کو کوئی کتاب پڑھنے کے لئے دیتے ہیں تو ان کو کہیں کہ تم لوگ یہ پڑھو ، یہ ضروری ہے ، اس کی طرف توجہ کرو، یہی چیز ہے جو ہمیں مقدم ہونی چاہیے اور ہم اس کا عہد کرتے ہیں اور اپنے عہدوں کو ہمیں پورا کرنا چاہیے ۔ لہذا اپنے تربیت کے شعبہ کے ساتھ collaborate کر کے ، آپس میں مل کے اور معین پروگرام بنا کے تو پھر اس کی طرف توجہ دلائیں۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے آغاز میں اپنی فرمودہ نصیحت کا اعادہ فرمایا کہ میں نے تو یہی کہا ہے کہ سوئے ہوئے کو تو جگایا جا سکتا ہے، جاگتے کو کون جگائے ؟ بڑھی عمر میں تو