سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 47 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 47

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 15 کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کے مقصد کو پورا کرنے والے ہوں اور ہماری جو صلاحیتیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے جو طاقتیں ہمیں دی ہیں وہ زنگ لگ کے ختم نہ ہو جائیں۔ اس کی مزید وضاحت انشاء اللہ تعالیٰ آئندہ میں کروں گا۔ آخر میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشادات پیش کرتا ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ : ”اللہ تعالیٰ سے اصلاح چاہنا اور اپنی قوت خرچ کرنا یہی ایمان کا طریق ہے۔“ (ملفوظات جلد 1 صفحہ 92۔ ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ ) پس اللہ تعالیٰ سے اصلاح چاہنا، اپنی قوتِ ارادی کو دعا کے ذریعہ سے مضبوط کرنا ہے اور قوت کا خرچ کرنا، قوتِ ارادی اور قوتِ عملی کا اظہار ہے۔ جب یہ اظہار اعلیٰ درجہ کا ہو جائے تو یہی ایمان ہے اور پھر بندہ ہر کام خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے کرتا ہے اُس کی رضا کے حصول کی طرف توجہ رہتی ہے۔ پھر آپ نے ایک جگہ فرمایا: ”تم صرف اپنا عملی نمونہ دکھاؤ اور اس میں ایک ایسی چمک ہو کہ دوسرے اُس کو قبول کر لیں۔“ (ملفوظات جلد 1 صفحہ 116۔ ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ ) کیونکہ جب تک اس میں چمک نہ ہو، کوئی اس کو قبول نہیں کرتا۔ جب تک تمہاری اندرونی حالت میں صفائی اور چمک نہ ہو گی، کوئی خریدار نہیں ہو سکتا۔ جب تک تمہارے اخلاق اعلیٰ درجہ کے نہ ہوں، کسی مقام تک نہیں پہنچ سکو گے۔ پس عملی حالتوں کی درستی کے لئے بہت محنت اور مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے تا کہ ہر احمدی اپنے احمدی ہونے کے مقصد کو پورا کر سکے ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خواہش کے مطابق ہم اپنے آپ کو حقیقی مسلمان بنا سکیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔“ ( خطبه جمعه فرمودہ 10 جنوری 2014ء بحوالہ الفضل انٹر نیشنل 31 جنوری 2014ء)