سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 46
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 14 عدم استعمال کی وجہ سے وہ مردہ کی طرح ہو گئی ہو اور اُسے بیرونی مدد اور سہارے کی ضرورت پیدا ہو گئی ہو۔ غیر حقیقی مثال ایسے شخص کی ہے جسے طاقت تو یہ ہو کہ من بوجھ اُٹھا سکے، چالیس کلو وزن اُٹھا سکے لیکن کام کرنے کی عادت نہ ہونے کی وجہ سے جب اُسے بوجھ اُٹھانے کا کہو تو اُسے گھبراہٹ چھڑ جاتی ہے، پریشانی شروع ہو جاتی ہے۔ ایسا شخص اگر اپنی طبیعت پر دباؤ ڈالے گا تو پھر بوجھ اُٹھانے کے قابل ہو جائے گا اور اُس میں کامیابی حاصل ہو جائے گی۔ اور حقیقی کی مثال یہ ہے کہ دیر تک کام نہ کرنے کی وجہ سے انسان میں کام کرنے کی طاقت ہی باقی نہیں رہتی اور اُس میں دس ہیں سیر سے یا کلو سے زیادہ وزن اُٹھانے کی طاقت نہیں رہتی۔ تو ایسے شخص کو زائد وزن اُٹھوانے کے لئے مدد گار دینا ہو گا۔ اُس کی اصلاح کے لئے اُس کی قوت ارادی کو بڑھانے کے لئے اور اُس کی قوتِ عملی کو بڑھانے کے لئے پھر کچھ اور طریقے اختیار کرنے ہوں گے۔ غرض جب طاقت کا خزانہ موجود نہ ہو تو اُس وقت بیرونی ذرائع استعمال کرنے پڑتے ہیں تا کہ کام کو پورا کیا جا سکے۔ یہی حال اعمال کی اصلاح کا ہے اور مختلف لوگوں کے لئے مختلف علاجوں کی ضرورت ہے۔ ایک ہی علاج ہر ایک کے لئے نہیں ہے۔ بعض کے لئے قوتِ ارادی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ بعض کے لئے قوتِ عملی پیدا کرنے کی ضرورت ہے اور بعض کے لئے اس صورت میں جبکہ بوجھ زیادہ ہو ، اُن کی طاقت اور برداشت سے باہر ہو ، بیرونی مدد کی ضرورت ہے۔“ (ماخوذ از خطبات محمود جلد 17 صفحہ 441 خطبه فرمودہ 10 جولائی 1936 مطبوعہ ربوہ ) صرف اپنا عملی نمونہ دکھاؤ اور اس میں ایک ایسی چمک ہو کہ دوسرے اُس کو قبول کرلیں ۔۔۔ اُس وقت معاشرے کو اپنا کردار ادا کرنا پڑتا ہے، جماعت کو اپنا کر دار ادا کرنا پڑتا ہے، ذیلی تنظیموں کو اپنا کر دار ادا کرنا پڑتا ہے۔ پس ہمیں اپنی عملی اصلاح کے لئے ان باتوں کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے، ان باتوں کو پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ اپنی قوتِ ارادی کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے، قوتِ عملی