سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 45 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 45

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 13 ایک قوتِ عملیہ میں طاقت کا پیدا کرنا، یہ بھی ضروری ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ علم کی زیادتی در حقیقت قوت ارادی کا حصہ ہوتی ہے کیونکہ علم کی زیادتی کے ساتھ قوتِ ارادی بڑھتی ہے۔ یا کہہ سکتے ہیں کہ وہ عمل کرنے پر آمادہ ہو جاتی ہے۔ ان سب باتوں کا خلاصہ یہ بنے گا کہ عملی اصلاح کے لئے ہمیں تین چیزوں کی ضرورت ہے، پہلے قوتِ ارادی کی طاقت کہ وہ بڑے بڑے کام کرنے کی اہل ہو۔ علم کی زیادتی کہ ہماری قوتِ ارادی اپنی ذمہ داری کو محسوس کرتی رہے کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط ہے اور صحیح کی تائید کرنی ہے اور اُس پر عمل کرنے کے لئے پورا زور لگانا ہے۔ غفلت میں رہ کر انسان مواقع نہ گنوا دے۔ تیسرے قوت عملیہ کی طاقت کہ ہمارے اعضاء ہمارے ارادے کے تابع چلیں، بد ارادوں کے نہیں، نیک ارادوں کے اور اُس کا حکم ماننے سے انکار نہ کریں۔ یہ باتیں گناہوں سے نکالنے اور اعمال کی اصلاح کا بنیادی ذریعہ ہیں۔ اپنی قوتِ ارادی کو ہمیں اُس زبر دست اف ، افسر کی طرح بنانا ہو گا جو اپنے حکم کو اپنی ۔ ر اپنی طاقت اور قوت اور اصولوں کے مطابق منواتا ہے اور کسی مصلحت کو اپنے اوپر غالب نہیں آنے دیتا۔ ہمیں چھوٹے بڑے گناہوں کی اپنی من مانی تعریفیں بنا کر اپنے اوپر غالب آنے سے روکنا ہو گا۔ صحیح علم ہمیں اُن ناکامیوں سے محفوظ رکھے گا جو قوت موازنہ کی غلطیوں کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں جس کی مثال میں دے چکا ہوں کہ حس مر جاتی ہے۔ چھوٹے اور بڑے گناہوں کے چکر میں انسان رہتا ہے اور پھر اصلاح کا موقع ہاتھ سے نکل جاتا ہے اور بعض دفعہ یوں بھی ہوتا ہے کہ عدم علم کی وجہ سے قوتِ ارادی فیصلہ ہی نہیں کر سکتی کہ اُسے کیا کرنا ہے یا کیا کرنا چاہیے۔ اسی طرح جب قوتِ عملیہ مضبوط ہو گی تو وہ قوتِ ارادی کے ادنیٰ سے ادنی اشارے کو بھی قبول کرلے گی۔ قوت عملیہ کی کمزوری دو طرح کی ہوتی ہے۔ حقیقی اور غیر حقیقی حضرت مصلح موعودؓ نے ایک نکتہ یہ بھی بیان فرمایا ہے کہ ” یہاں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ قوت عملیہ کی کمزوری دو طرح کی ہوتی ہے۔ حقیقی اور غیر حقیقی۔ غیر حقیقی تو یہ ہے کہ قوت تو موجود ہو لیکن عادت وغیرہ کی وجہ سے زنگ لگ چکا ہو اور حقیقی یہ ہے کہ ایک لمبے عرصے کے