سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 459
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 427 کبھی بھی سچائی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑ نا چاہیے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے قائد مال سے مخاطب ہوتے ہوئے بجٹ کے حوالے سے مختلف امور پر ہیں تو انہیں کبھی بھی ۔ سچائی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ بر گفتگو فرمائی۔ نیز تلقین فرمائی کہ جب انصار اپنا چندہ اور بجٹ لکھواتے موصوف نے عرض کیا کہ انصار سے بجٹ تو collect کرتے ہیں اور بار بار یاد دہانی بھی کروائی جاتی ہے لیکن وہ کہتے ہیں کہ ہماری income یہی ہے۔ اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ہدایت فرمائی کہ ان سے کہیں یہ نہ کہو کہ تمہاری income یہ ہے۔ یہ کہو کہ میں اتنا چندہ دے سکتا ہوں، کم از کم جھوٹ تو نہ ہو۔ بجٹ لکھواتے ہوئے نہ جھوٹ بولیں ، نہ چندہ دیتے ہوئے جھوٹ بولیں، غلط بیانی نہ کریں۔ پیسوں کی خاطر غلط بیانی کرنے کا فائدہ کیا ہے ؟ جو وہ کہتے ہیں ہم اتنا چندہ دے سکتے ہیں ، ٹھیک ہے ، قبول کر لیں۔ ٹھیک ہے ، تم اتنا دے سکتے ہو ، تمہارے سے ہم اتناہی لے لیں گے لیکن یہ نہ کہو کہ ہماری آمد ا تنی ہے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس بات کا اعادہ فرمایا کہ جتنا چندہ کوئی دے سکتا ہے، وہ دے، لیکن غلط بیانی نہ کرے۔ یہ عادت ڈالیں، سچائی کی عادت ڈال دیں اور یہ تربیت کا کام ہے۔ جتنی کوشش آپ مال میں کرتے ہیں یا چندہ لینے کے لئے کرتے ہیں، اتنی کوشش تربیت والے اگر کریں تو باقی مسائل بھی حل ہو جائیں۔ آپ عشرہ مال تو مناتے ہیں ، عشرہ تربیت اتنا نہیں مناتے اور صرف پیچھے پڑے رہتے ہیں کہ چندہ دو۔ کبھی پیچھے نہیں پڑے کہ نماز پڑھو، قرآن پڑھو اور حدیث پڑھو نیز حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب پڑھو۔ ہر ناصر مربی ہوتا ہے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں قائد تعلیم نے مطالعہ کتب حضرت