سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 456 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 456

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 424 جب ذاتی تعلقات اس حد تک ہوں گے تو پھر ایسا ممکن ہے۔ لیکن آپ پہلے ہی جا کے اس کو bluntly کہنا شروع کر دیں گے کہ تم پیچھے ہٹ گئے ہو ، تمہارے ساتھ اللہ تعالیٰ یہ کر دے گا، وہ کر دے گا۔ وہ کہے گا کہ اچھا! پھر ٹھیک ہے میرا اور اللہ کا معاملہ ہے، تم کون ہوتے ہو ، جاؤ گھر بیٹھو۔ تو اصل چیز یہی ہے کہ اگر یہ پتا لگے کہ عہدیداروں کی وجہ سے ایسا ہے تو پھر عہدیداروں کا کام ہے کہ اپنی اصلاح کریں اور ان کی اصلاح کے لئے کوشش بھی کریں چاہے خود ذاتی رابطہ کر کے کوشش کریں یا کسی ایسے شخص کے ذریعہ سے جن سے ان کے اچھے تعلقات ہیں، اس کے ذریعہ سے ان کو سمجھانے کی کوشش کریں کہ جماعت سے دُور ہٹنے کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ اگر تمہاری ناراضگی ہے تو عہدیدار سے ہے نہ کہ جماعت سے۔ پھر جب بے چارہ کوئی ایسا ناراض ہو اہو ا مسجد میں آجاتا ہے ، دو مہینے ، چار مہینے نہیں آیا، تو اس کو پھر جو ارد گرد کے لوگ ہیں آکے بڑے طنزیہ انداز میں کہتے ہیں ”آج تے بڑی رونق لگ گئی اے، آج تے بڑا چن چڑھ گیا اے“ یعنی آج تو مسجد میں ہم نے آپ کو دیکھ لیا۔ اس طرح کی باتیں کرتے ہیں، جس سے وہ اگلا اور چڑ جاتا ہے۔ اس لئے اپنے رویے بھی درست کریں۔ یہ جو جماعت ہے اس کی تو خوبصورتی ہی یہی ہے کہ ہم ایک دوسرے کے اعضاء ہیں۔ اگر یہ احساس پیدا ہو جائے کہ ایک عضو میں جب تکلیف ہوتی ہے تو سارے جسم پر اس کا اثر ہوتا ہے، اگر یہ سوچ پیدا کریں گے تو وہ نزدیک ہو جائے گا نہ یہ کہ اگر کسی کی اصلاح ہو گئی ہے، آگیا ہے یا کسی کے سمجھانے پر آگیا ہے تو اس کو اتنا طنز کریں اور اس کو ایسی نظروں سے دیکھیں کہ وہ اگلا بے چارہ دوبارہ دوڑ جائے، پھر وہ اگلا جمعہ ہی نہ پڑھے۔ یہ رویے آپ کو ٹھیک کرنے پڑیں گے اور یہ روح پیدا کریں کہ ہم نے آپس میں بھائی بھائی بن کے رہنا ہے۔ ہمیں آپس میں رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ (الفتح: 30) کا حکم ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ماننے والے جو اسلام کو ماننے والے ہیں، جو دین پر قائم ہیں، وہ ایک ہو کر رہتے ہیں اور ہر ایک کی تکلیف کا احساس کرتے ہیں۔ تو ہم نے بچانا ہے۔ ایک