سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 455
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 423 پڑھیں۔ قرآن شریف کی تلاوت کرتے ہوئے جہاں ان حکموں پر عمل کرنے کا حکم ہے وہاں عمل کرنے کی کوشش بھی کریں تو تقویٰ کے معیار حاصل ہو جاتے ہیں۔ ہمارے سامنے اللہ تعالیٰ نے راہنما کتاب تو رکھی ہوئی ہے اب اس پر میں نے کیا بتانا ہے؟ باقی خلاصہ ایک شعر میں میں نے بتا دیا کہ نخوت چھوڑیں، کبر چھوڑیں، غرور چھوڑیں، بخل چھوڑیں اور یہ بخل ہر چیز میں ہوتا ہے۔ یہ نہیں کہ مال میں بخل، تعلقات میں بھی بخل، اپنے آپس میں نیک جذبات کے اظہار میں بعض بخل کرتے ہیں وہ بھی نہیں کرنا۔ تو بہت ساری چیزیں ہیں ان کو اگر آپ صحیح کر لیں تو اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہو جاتا ہے، تقویٰ حاصل ہو جاتا ہے۔ عہدیدار جب اصلاح کرلیں گے تو باقی لوگ آپ ہی ٹھیک ہو جائیں گے ایک سوال کیا گیا کہ بعض افرادِ جماعت کسی عہدیدار کے غلط رویے یا کسی غلط فہمی کی وجہ سے آہستہ آہستہ جماعت سے دُور ہو جاتے ہیں اور رابطہ کرنے پر جواب نہیں دیتے، ان کو دوبارہ نظام سے جوڑنے کے لئے کیا طریق اختیار کرنا چاہیے ؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ پہلی بات تو عہدیداروں کی اصلاح ہے۔ عہدیدار اپنی اصلاح کریں اور پھر ایسے لوگ جو دُور ہٹے ہوئے ہیں، ان سے جن عہدیداروں کے تعلقات ٹھیک ہیں ، ان سے رابطہ پیدا کریں۔ صدر جماعت اور سیکرٹری تربیت کا کام ہے کہ ان سے رابطہ پیدا کریں اور صرف یہ نہیں ہے کہ ان سے چندہ لینے کے لئے ان کے پاس چلے جائیں یا اجلاس پر بلانے کے لئے ان کے پاس چلے جائیں ، ان سے ذاتی تعلق پیدا کریں اور جب ذاتی تعلق پیدا ہو گا تو پھر ان کو سمجھائیں بھی کہ تم نے احمدیت قبول کی تھی یا جماعتی نظام میں آئے تھے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ اس زمانے میں جب امام مہدی آئے گا تو اس کو مان لینا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اس کو مان لینا اور اس کی جماعت میں شامل ہو جانا، تو تم نے مسیح موعود علیہ السلام اور اس کے بعد خلافت کی بیعت کی ہے، تم نے کسی عہدیدار کی بیعت تو نہیں کی، تو عہدیدار کے غلط رویے کی وجہ سے تم جماعت سے کیوں دُور ہٹ رہے ہو ، کیوں اللہ تعالیٰ کو ناراض کرنے کی کوشش کر رہے ہو ؟