سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 454 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 454

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 422 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نمازوں کے دوران اپنے اوپر حالت گریہ و زاری طاری کرنے کی نصیحت فرمائی ہے کیونکہ چہرے کی ظاہری کیفیت انسان کے باطن پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مزید تلقین فرمائی کہ اس کے لئے دعا اور کوشش کرنی چاہیے۔ تقویٰ یہی ہے یارو کہ نخوت کو چھوڑ دو ایک ناصر بھائی نے دریافت کیا کہ ہم تقویٰ کے اعلیٰ معیار کس طرح حاصل کر سکتے ہیں ؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جواب دیا کہ حضرت مسیح موعود نے فرمایا: تقویٰ یہی ہے یا رو کہ نخوت کو چھوڑ دو کبر و غرور و بخل کی عادت کو چھوڑ دو تقویٰ کیا ہے ؟ تقویٰ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا خوف۔ اللہ تعالیٰ کا خوف کسی ڈر کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کی محبت کی وجہ سے خوف کہ اللہ تعالیٰ ناراض نہ ہو جائے۔ آپ کو کسی سے پیار ہو تو یہی خیال ہوتا ہے کہ وہ ناراض نہ ہو جائے۔ بعض لوگ اپنی بیویوں سے لڑائی اس لئے کر لیتے ہیں کہ ماں باپ ناراض نہ ہو جائیں تو وہ محبت کی وجہ سے ہوتا ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے یہی فرمایا ہے کہ بیویوں کے بھی حق ادا کرو اور ماں باپ کے بھی حق ادا کرو۔ لیکن بہر حال ایک محبت ہوتی ہے جس کی وجہ سے، اس خوف کی وجہ سے، آپ لوگ ان کی باتیں مانتے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہی فرمایا ہے کہ میرا تقویٰ اختیار کرو، میراخوف دل میں پیدا کرو لیکن محبت سے۔ اللہ کی محبت پیدا ہو جائے گی جس کے لئے میں پہلے بتا چکا ہوں، بہت ساری وضاحت کر چکا ہوں تو تقویٰ کا معیار بھی حاصل ہو گا۔ پھر جو اللہ تعالیٰ کے احکامات ہیں ان پر عمل کریں، قرآن کریم میں بے شمار احکام ہیں ، سات سو تم ہیں ۔ و حکم ہیں یا بعض جگہ لکھا ہے کہ بارہ سو حکم ہیں، تو وہ جتنے بھی ہیں، تلاش کر کے جہاں جہاں آتے ہیں، اس سے جہاں اللہ تعالیٰ نے خوف دلایا ہے وہاں خوف کریں، استغفار