سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 44 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 44

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 12 بات نہیں ہے اور نتیجہ کیا ہو گا پھر ؟ نتیجہ ظاہر ہے کہ بڑے ہو کر جہاں جہاں بھی ایسے بچے کو جھوٹ بولنے کا موقع ملے گا وہ اپنی قوتِ موازنہ سے فیصلہ چاہے گا تو قوتِ موازنہ اُسے فوراً یہ فیصلہ دے دے گی کہ خطرہ زیادہ ہے ، جھوٹ بول لو ، اس میں کوئی حرج نہیں۔ اسی طرح غیبت ہے۔ اگر بچہ اپنے ارد گرد غیبت کرتے دیکھتا ہے کہ تمام لوگ ہی غیبت کر رہے ہیں تو بڑا ہو کر اُس کے سامنے جب غیبت کا موقع آتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ اگر میں نے غیبت کی تو مجھے فائدہ پہنچے گا تو قوتِ موازنہ اُسے کہتی ہے، تمہارے ارد گرد تمام غیبت کرتے ہیں اگر تم غیبت کر لو تو کیا حرج ہے، گویا گناہ تو ہے لیکن اتنا بڑا گناہ نہیں۔ اس بارے میں گزشتہ ایک خطبہ میں بات ہو چکی ہے کہ اصلاح اعمال میں ایک بہت ہو جاتا ہے۔ بڑی روک یہ ہے کہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ بعض گناہ بڑے ہیں اور بعض چھوٹے گناہ ہیں اور ان کو کر لینے میں کوئی حرج نہیں ہے اور پھر ان گناہوں کو جب ایک دفعہ انسان کرلے تو چھوڑنا مشکل ا ہے۔ یہاں انسان میں قوتِ موازنہ تو موجود ہونا تو موجود ہوتی ہے مگر اس غلط علم کی علم کی وجہ سے جو اُسے ماحول نے دیا ہے، وہ انسان کو اتنی طاقت نہیں دیتی جس طاقت کے ذریعہ سے وہ گناہوں پر غالب آسکے ، جیسے کہ وزن اُٹھانے کی مثال بیان کی گئی تھی۔ کمزور طاقت ایک وزن کو اُٹھا نہ سکی لیکن جب دماغ نے زیادہ وزن اُٹھانے کی طاقت بھیجی تو وہی ہاتھ اُس زیادہ وزن کو اُٹھانے کے قابل ہو گیا لیکن اگر انسان کی قوتِ موازنہ یہ حکم دماغ کو نہ بھیجتی تو وہ وزن نہ اُٹھا سکتا۔ اسی طرح گناہوں کو مٹانے میں بھی یہی اصول ہے۔ گناہوں کو مٹانے کی طاقت انسان میں ہوتی ہے لیکن جب گناہ سامنے آتا ہے اور قوتِ موازنہ یہ کہہ دیتی ہے کہ اس گناہ میں حرج کیا ہے کہ چھوٹا سا، معمولی ساتو گناہ ہے جب کہ اس کے کرنے سے فائدہ زیادہ حاصل ہو گا تو دماغ پھر گناہ کو مٹانے کی طاقت نہیں بھیجتا۔ وہ حس مر جاتی ہے یا ہم کہہ سکتے ہیں کہ قوتِ ارادی ختم ہو جاتی ہے اور گناہ سر زد ہو جاتا ہے گویا اصلاح اعمال کے لئے تین چیزوں کی مضبوطی کی ضرورت ہے۔ علم کی زیادتی کے ساتھ قوت ارادی بڑھتی ہے ایک قوت ارادی کی مضبوطی کی ضرورت ہے، ایک علم کی زیادتی کی ضرورت ہے اور